پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز جیت کے بعد شاداب خان اور حارث رؤف کی شاندار آخری وکٹ شراکت داری کو سراہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہ فریقی سیریز: انگلینڈ کے ساتھ سنسنی خیز مقابلہ، شاداب خان نے شکست کو فتح میں بدل دیا
اتوار کو قذافی اسٹیڈیم میں س کے چوتھے میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی۔
پوسٹ میچ پریزنٹیشن میں گفتگو کرتے ہوئے شاہین نے ٹیم کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا، خاص طور پر شاداب اور حارث کی ناقابل شکست 89 رنز کی شراکت داری کی تعریف کی جس نے 242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو فتح دلائی۔
شاہین آفریدی نے کہا کہ میں کچھ کہہ نہیں سکتا کیوں کہ شاداب اور حارث نے جس طرح میچ ختم کیا، 89 رنز کی شراکت داری وہ میں نے اپنی زندگی میں ایسا کبھی نہیں دیکھا اور بطور کپتان واقعی بہت خوش ہوں۔
پاکستان کے کپتان نے اپنے کھلاڑیوں کی اجتماعی کوشش کو بھی سراہا اور دن کے آغاز سے ان کی کارکردگی کو شاندار قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “صبح سے ہی، ٹیم کی کوشش ٹاپ ڈراور تھی۔
پاکستان کا رنز کا تعاقب تباہ کن آغاز سے ہوا جب فخر زمان، صائم ایوب اور بابر اعظم سستے میں آؤٹ ہو گئے جس سے میزبان ٹیم شدید دباؤ میں آ گئی۔ انگلینڈ نے وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرنا جاری رکھا اور پاکستان کو شکست کے قریب پہنچا دیا اس سے قبل کہ شاداب اور حارث نے شاندار کم بیک کیا۔
مزید پڑھیے: سہ فریقی ایک روزہ سیریز: سری لنکا کی انگلینڈ کے خلاف شاندار فتح، کونسے ریکارڈ ٹوٹے؟
شاداب نے شاندار ریکوری کی قیادت کرتے ہوئے اپنی پہلی ون ڈے سنچری بنائی، 96 گیندوں پر 113 رنز اسکور کیے جس میں 13 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ حارث نے دوسرے اینڈ پر اعصاب پر قابو رکھا اور دونوں نے آخری وکٹ کے لیے ناقابل شکست 89 رنز جوڑ کر 43ویں اوور میں فتح پر مہر لگا دی۔
شاہین آفریدی نے عرفات منہاس کو دیر سے لانے کے فیصلے کی بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کے 2 بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کی وجہ سے اسپنر کو لانے کا وقت متاثر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ 2 لیفٹ ہینڈرز بیٹنگ کر رہے تھے اس لیے منہاس کو نہیں لانا چاہتے تھے۔ اسی لیے اسے تھوڑا دیر سے لائے، لیکن اس نے اچھی بولنگ کی۔
پاکستان کے کپتان نے نوجوان پیسر رضا اللہ کی رفتار کی بھی تعریف کی اور انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک کے رن آؤٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا جس نے میزبان ٹیم کو دباؤ برقرار رکھنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا، “رضا اللہ نے تیز رفتار سے بولنگ کی۔ بروک کا رن آؤٹ ہمارے لیے اہم تھا۔
ڈرامائی فتح کے باوجود شاہین آفریدی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کو ٹاپ آرڈر سے زیادہ رنز درکار ہیں اور آئندہ میچوں سے قبل بیٹنگ لائن اپ میں ممکنہ تبدیلیوں کا اشارہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹاپ آرڈر سے رنز کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ اگلے چند میچوں میں ہم پاور پلے میں وہی انرجی لائیں گے۔
اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور شاندار آغاز کیا اور انگلینڈ کو 11 پر 3 آؤٹ کر دیا۔ بین ڈکٹ نے 111 گیندوں پر 105 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اننگز کو سنبھالا جس میں 10 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے، جبکہ سیم کرن نے 52 گیندوں پر 42 رنز بنائے۔
شاہین آفریدی نے 46 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ رضا اللہ اور عرفات منہاس نے 2، 2 وکٹیں حاصل لیں اور انگلینڈ 46.4 اوورز میں 241 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا۔
اس فتح نے پاکستان کی ٹرائی سیریز کے فائنل میں جگہ پکی کر دی اور ٹائٹل مقابلے سے قبل بڑا حوصلہ دیا۔ شاہین آفریدی نے کہا کہ ٹیم اس سخت مقابلے کے بعد جشن منائے گی اور پھر تیاریوں میں واپس آئے گی۔
مزید پڑھیں: کل انگلینڈ کے ساتھ مقابلہ، مخالف کی فکر نہیں، ہدف صرف جیت ہوگا، شاہین آفریدی کا اعلان
انہوں نے کہا کہ آج رات ہم جشن منائیں گے اور کل سے معمول پر واپس آجائیں گے۔











