جارجیا میں کامیابی کے بعد سینیٹر جون اوسوف کا نام ممکنہ امریکی صدارتی امیدواروں میں شامل

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریاست جارجیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف کی شاندار کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی میں انہیں 2028 کے صدارتی انتخابات کے ممکنہ امیدوار کے طور پر زیرِ غور لایا جانے لگا ہے، تاہم جون اوسوف پہلے ہی صدارتی عہدے میں دلچسپی نہ ہونے کا اظہار کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جون اوسوف نے منگل کو ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن جماعت کے امیدوار اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی رکنِ کانگریس مائیک کولنز کو واضح برتری سے شکست دی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات، ڈیموکریٹس کا دونوں ایوانوں میں غلبہ، ٹرمپ کے پاس محض ویٹو اختیار رہ گیا

اس کامیابی کے بعد قومی سطح پر ڈیموکریٹک پارٹی میں ان کی سیاسی اہمیت اور مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اپنے انتخابی جلسے کے بعد کامیابی کی تقریر کرتے ہوئے جون اوسوف نے کہا کہ ہماری ذمہ داری صرف ایک صدر کی برائیوں کو محدود کرنا نہیں بلکہ ان بنیادی مسائل اور ٹوٹ پھوٹ کو بھی دور کرنا ہے جنہوں نے معاشرے کو متاثر کیا ہے۔

دوسری جانب انتخابی مہم کے دوران مائیک کولنز نے جون اوسوف کو ایک انتہا پسند بائیں بازو کا سیاست دان قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے خواہاں ہیں۔

اس کے برعکس جون اوسوف نے اپنی انتخابی مہم میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی مخالفت، میڈیکیڈ پروگرام میں کی گئی کٹوتیوں کی بحالی اور عوامی فلاح کے اقدامات پر توجہ مرکوز رکھی۔

مائیک کولنز نے اپنی شکست کے بعد بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت جاری رکھنے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں صدر ٹرمپ کی قیادت میں خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز اور فخر کی بات رہی ہے۔

ایموری یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر برنارڈ فراگا کے مطابق جون اوسوف کی کامیابی نے انہیں 2028 کے ممکنہ صدارتی امیدواروں کی فہرست میں ضرور شامل کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی مڈ ٹرم انتخابات: ڈیموکریٹس کے متعدد بڑے اپ سیٹ، کینساس میں 94 سال بعد کامیابی

’تاہم فی الوقت ڈیموکریٹس کی ترجیح کانگریس میں حاصل ہونے والی کامیابی کو استعمال کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں اقتدار نہ ہونے کے باوجود اپنی حکمرانی کی صلاحیت ثابت کرے۔

’اگر پارٹی ایسا کرنے میں ناکام رہی تو ووٹرز اسے بھی اسی طرح جواب دہ ٹھہرائیں گے جس طرح حالیہ انتخابات میں ریپبلکنز کو نقصان اٹھانا پڑا۔‘

مزید پڑھیں: غزہ میں زخمیوں کا علاج کرنے والے سرجن آدم حموی امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب

جون اوسوف کی کامیابی کو ڈیموکریٹک پارٹی میں ان کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرورسوخ کی علامت قرار دیا جارہا ہے۔

جارجیا سے تعلق رکھنے والے دوسرے ڈیموکریٹ سینیٹر رافیل وارنک کا نام بھی 2028 کے صدارتی انتخابات کے ممکنہ امیدواروں میں لیا جارہا ہے۔

ادھر جارجیا میں سینیٹ کی نشست پر شکست کے بعد ریپبلکن پارٹی اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی اور دوبارہ صف بندی کرنے میں مصروف ہے۔

مائیک کولنز کی موجودہ کانگریسی مدت جنوری میں ختم ہونے والی ہے، تاہم انہوں نے انتخابی شکست کے بعد کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی کسی دستیاب موقع کے ذریعے عوامی خدمت جاری رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp