پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان کے لیے کیسے منفی ثابت ہو رہی ہے؟

بدھ 13 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کو پاکستان میں بلیک اکانومی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔

وہ کاروباری سرگرمیاں جو کسی ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جائیں ان سرگرمیوں کے لیے بلیک اکانومی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

ان غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا، اسی لیے حکومت کو ٹیکس کی مد میں بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا اور ملکی معیشت پر اس کے گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ بلیک اکانومی اور بلیک مارکیٹ کی ایک مثال ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغان حکام ٹرانزٹ ٹریڈ میں شامل اشیا کی قیمتوں سے متعلق پاکستان کسٹمز حکام کے ساتھ غلط بیانی کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیا کی رپورٹ شدہ اور حقیقی قدر میں نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد یہ اشیا پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے آتی ہیں۔

ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغان درآمدات میں67 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی مالیت فروری 2022-23ء میں 6.71 ارب امریکی ڈالر تک جا پہنچی تھی جبکہ گزشتہ سال یہ درآمدات صرف 4 ارب ڈالر تھیں۔

پاکستان سے افغانستان کو برآمد کی جانے والی اشیا میں مصنوعی فائبر، بجلی کا سامان، الیکٹرونکس آلات، ٹائرو ٹیوب، چائے وغیرہ شامل ہیں۔ افغانستان کو برآمد کی جانے والی ان اشیا میں بالترتیب 35 فیصد، 72 فیصد، 80 فیصد اور59 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

ان میں سے بیشتر اشیا پاکستان میں مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں۔ افغانستان کو برآمد کی جانے والی اشیا میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں ان اشیا کی کمی واقع ہوئی ہے اور یہاں کی صنعت مقامی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔

افغانستان کو مذکورہ اشیا برآمد کرنے سے پاکستان میں ان اشیا کی درآمدات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ مصنوعی ریشوں سے بنے کپڑے کی مصنوعات کی درآمد 48 فیصد کم ہوئی ہے، الیکٹرونکس آلات کی درآمدات میں 62 فیصد کمی، ٹائراورربڑ کی درآمدات 42 فیصد، چائے کی درآمد 51 فیصد، مشینری کی درآمد 34 فیصد جبکہ سبزی اور پھلوں کی درآمدات میں 46 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے پاکستان  میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے اورپاکستانی معیشت پراس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کوبھی دنیا بھرمیں رائج قوانین کے مطابق کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!