غزہ میں قیامت صغریٰ، اسرائیلی بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 5800 ہو گئی

منگل 24 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل اور فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان کشیدگی کے بعد اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے شمال میں الشاتی اور جنوب میں خان یونس پناہ گزین کیمپوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں مزید 56 فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔

غزہ میں اس وقت قیامت صغریٰ کے مناظر ہیں، 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 5800 تک پہنچ گئی ہے۔

اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والوں میں 2000 سے زیادہ بچے شامل ہیں جبکہ 1100 خواتین بھی شہید ہو چکی ہیں، اب تک کل زخمیوں کی تعداد 15 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

دوسری جانب اسپتالوں میں زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے، دواؤں اور ایندھن کی عدم فراہمی کے باعث زخمیوں کا علاج نہیں ہو پا رہا، ڈاکٹرز مریضوں کو بیہوش کیے بغیر آپریشنز کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والوں کو بھی معاف نہیں کررہی، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اقوام متحدہ کے مزید 6 کارکن بمباری میں مارے گئے ہیں۔ 7 اکتوبر سے اب تک ہلاک ہونے والے عملے کی تعداد 35 ہو گئی ہے۔

غزہ میں انسانی المیے کے باوجود اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی برقرار ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے سینیئر مشیر کہتے ہیں کہ اگر حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کر دے تو بھی غزہ کو ایندھن کی فراہمی نہیں ہونے دیں گے۔

اس کے علاوہ اسرائیل کی جانب سے دھمکی دی جا رہی ہے کہ کسی بھی وقت اسرائیلی فوج غزہ پر زمینی فوج کے ذریعے چڑھائی کر دے گی، جبکہ حماس نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کوئی بھی غلطی کی تو اسرائیل کی فوج کو نیست و نابود کر دیں گے۔

غزہ کی صورتحال پر پوری دنیا کی نظر ہے، قطر اور مصر کی ثالثی پر حماس نے مزید 2 یرغمالی خواتین کو رہا کر دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا گیا۔

اس سے قبل حماس نے امریکا کی ماں بیٹی کو بھی قطر کی ثالثی پر رہا کر دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟