پاکستان تحریک انصاف بلے کا نشان کیسے بچا سکتی ہے؟

جمعہ 8 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف انتخابات سے قبل اپنے انتخابی نشان بچانے کے لیے قانونی جنگ لڑ رہی ہے۔ بلے کے نشان کو بچانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے انٹرا پارٹی الیکشن لڑنے سے بھی انکار کردیا تھا اور اپنی جگہ بیرسٹر گوہر علی خان کو چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا تھا۔

یہ فیصلہ پارٹی نے الیشکن کمیشن کے 22 نومبر کو جاری کیے گئے فیصلے کی روشنی میں کیا جس میں کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن ماننے سے انکار کرتے ہوئے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا حکم دیا تھا۔ خیال رہے کہ قانون کے مطابق پارٹی انتخابی نشان جاری کرنے سے پہلے انٹرا پارٹی کے نتائج الیکشن کمیشن میں جمع کروانے لازمی ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ برس جون میں کرائے گئے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیا گیا تھا جس کے بعد صرف اور صرف الیکشن کمیشن کے اعتراض کو دور کرنے کے لیے عمران خان کے بجائے بیرسٹر گوہر کو چئیرمین منتخب کردیا گیا لیکن پی ٹی آئی کے سامنے رکاوٹ اس وقت آئی جب سابقہ رکن اکبر ایس بابر نے انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتراضات دائر کردیے۔

اکبر ایس بابر نے موقف اپنایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن قانون کے مطابق نہیں ہوئے اور انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے نہ کاغذات نامزدگی دیے گئے نہ ہی شیڈول جاری کیا گیا۔

اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن سے یہ استدعا کی کہ الیکشن کمیشن پارٹی کو دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کی ہدایت کرے، الیکشن کمیشن نے ان کی یہ استدعا تو مسترد کر دی تاہم ان کی درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے 12 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی۔

الیکشن کمیشن نے موقف اپنایا کہ آئین کے مطابق بار بار انتخابات کروانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اگر خلاف ورزی ہوئی تو اس کے نتائج ہوں گے۔

پی ٹی آئی کے پاس آپشنز کیا ہیں؟

بظاہر اکبر ایس بابر کی درخواست منظور ہونے کے بعد تحریک انصاف کے لیے بلے کا نشان بچانا ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ لیکن تحریک انصاف کے پاس اس وقت الیکشن کمیشن میں اپنا موقف درست ثابت کرنے کے علاوہ دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ برس جون میں کرائے گئے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ جمعہ کو اس درخواست پر ان چیمبر سماعت بھی ہوئی جس کے بعد معاملہ پانچ رکنی لارجر بنچ کے سامنے بھیج دیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اگر الیکشن کمیشن کے 22 نومبر کو دیے گئے فیصلے پر حکم امتناع جاری ہوجاتا ہے تو جون 2022 کے انٹرا پارٹی الیکشن بحال ہوجائیں گے اور عمران خان بھی بطور چیئرمین بحالی کے ساتھ ساتھ بلے کا نشان بھی جاری ہونے میں رکاوٹ دور ہو جائے گی تاہم لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اگر حکم امتناع جاری نہ کیا گیا تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔

دوسری جانب تحریک انصاف اکبر ایس بابر کی درخواست کے خلاف بھی عدالت جانے کا آپشن رکھتی ہے۔

واضح رہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق انتخابات کا انعقاد 8 فروری کو ہونا ہے لیکن ان 2 ماہ کے دوران پاکستان تحریک انصاف انتخابات سے قبل اپنا انتخابی نشان بچانے کے لیے جنگ لڑ رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز