ہائیکورٹ ججز کا خط: پی ٹی آئی کا لارجر بینچ کی تشکیل پر اعتراض، فل کورٹ کا مطالبہ

پیر 1 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس میں بینچ کی تشکیل پر اعتراض کردیا۔

پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اس اہم کیس پر ہمیں لارجر بینچ قبول نہیں فل کورٹ تشکیل دے کر سماعت براہِ راست نشر کی جائے۔

انہوں نے کہاکہ تصدق حسین جیلانی اچھی شہرت کے حامل شخص ہیں، انہوں نے انکوائری کمیشن سے دستبردار ہوکر درست فیصلہ کیا۔

رؤف حسن نے کہاکہ ہائیکورٹ ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط پر وکلا کنونشن بلایا جائے۔

واضح رہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے عدالتی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے۔

حکومت نے اس اہم معاملے کی تحقیقات کے لیے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا تھا تاہم اب انہوں نے معذرت کرلی۔

جسٹس تصدق جیلانی کی جانب سے معذرت کے بعد اب چیف جسٹس پاکستان نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیدیا ہے۔ مگر پی ٹی آئی نے اس پر اعتراض کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

اسحاق ڈار کی آسٹریلین ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟