برطانوی جریدے گارڈین نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں بھارت غیر ملکی سرزمین بالخصوص پاکستان میں دہشت گردی کا مرتکب ہورہا ہے۔
خطے میں دہشتگردی پھیلانے اور مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر بھارت کے مکروہ عزائم پرمشہور بین الاقوامی جریدے گارڈین نے رپورٹ شائع کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ مودی سرکار غیر ملکی سرزمین پر منظم حکمت عملی کے تحت معصوم افراد کو قتل کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
رپورٹ میں انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق بتایا گیا ہے کہ مودی سرکار ان لوگوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جنہیں وہ بھارت کا دشمن سمجھتی ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی را پر مودی کا براہ راست کنٹرول ہے۔
’پچھلے سال بھارت کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی جب کینیڈین سرزمین پر سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔۔۔خالصتان تحریک کے حامی سکھ علیحدگی پسندوں کو بغض کی آڑ میں پاکستان اور مغرب دونوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
امریکا اور کینیڈا کی جانب سے بھی یہ الزام عائد کیا جاچکا ہے کہ بھارت کینیڈا میں سکھ کارکن کے قتل سمیت دیگر سکھ رہنماؤں پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث ہے، برطانوی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ خطے سے دہشت گردی کو مٹانے کی آڑ میں بھارت غیر ملکی سرزمین بالخصوص پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔

گارڈین کی رپورٹ کے مطابق خالصتان تحریک کے سر کردہ رہنما پرمجیت سنگھ پنجواڑ کو بھی گزشتہ سال لاہور میں قتل کردیا گیا تھا، جس کے تانے بانے بھی بھارت سے ہی ملتے ہیں، پرمجیت سنگھ پنجواڑ کے قتل کی منصوبہ بندی بھارتی ایجنٹوں نے ریاست کیرالا میں کی۔
رپورٹ کے مطابق پہلی بار بھارتی انٹیلیجنس اہلکاروں نے پاکستان میں مبینہ کارروائیوں کا اعتراف کیا، سکھ رہنماؤں کی اموات مشرق وسطیٰ کے ایک ملک میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بھارتی انٹیلی جنس سلیپر سیلز کے ذریعے کی گئیں۔
گارڈین کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں ہلاکتوں میں اضافے کا سبب بھارتی سلیپر سیلز ثابت ہوئے جو معصوم پاکستانیوں کو قتل کرنے کے لیے لاکھوں روپوں کے عوض استعمال ہوتے رہے، بھارتی انٹیلیجنس ایجنٹس کے مطابق پلوامہ کی طرز کے آپریشنز کرنے کے لیے حکومت کی اعلیٰ ترین سطح سے منظوری شامل ہوتی ہے۔
انٹیلیجنس ذرائع نے دعویٰ کیا کہ 2023 میں ٹارگٹڈ قتل کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جن میں سے بیشتر میں بھارت براہِ راست ملوث تھا، خطے میں دہشتگردی کو فروغ دینے کے لیے بھارت نے اسرائیل اور روس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ٹریننگ حاصل کی جو غیر ملکی سرزمین پر ماورائے عدالت قتل سے منسلک ہیں۔
اس سے قبل امریکی حکام نے بھی نیو یارک میں مقیم ایک ممتاز سکھ علیحدگی پسند رہنماکے قتل کے منصوبے میں بھارتی شہری کو مورد الزام ٹھہرایا تھا، امریکی محکمہ انصاف کے مطابق بھارتی انٹیلیجنس کا ایک سینیئر فیلڈ افسر قتل کی سازش میں ملوث تھا۔



























