پنجاب میں غفلت برتنے اور قوانین کی خلاف ورزی پر 14 پولیس اہلکاروں کو سزائیں

ہفتہ 28 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب پولیس نے غفلت برتنے اور محکمانہ قوانین کی خلاف ورزی پر 14 افسران و اہلکاروں کو سزائیں دی ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے مختلف افسران کو جاری کیے گئے 18 شوکاز نوٹسز کا جائزہ لینے کے بعد انضباطی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں سزائیں سنا دیں۔

یہ بھی پڑھیں:کے پی ہاؤس پر چھاپہ، آئی جی اسلام آباد سمیت 600 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمے کی استدعا

ہفتہ کے روز ڈی آئی جی کامران نے انضباطی کارروائی کا اعلان قلعہ گجر سنگھ میں پولیس لائنز میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

10 پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر جرمانے کی سزا دی گئی، جس میں تنخواہ اور انکریمنٹ روکنے کے ساتھ ساتھ دیگر سزائیں شامل ہیں۔ دریں اثنا 4 افسران کو اپنی کارکردگی اور طرز عمل کو بہتر بنانے کے لیے آخری وارننگ دی گئی۔

ڈی آئی جی کامران نے مضبوط اور مؤثر پولیس فورس کے قیام میں محکمانہ احتساب کی اہمیت پر زور دیااور کہا کہ لاہور پولیس میں غفلت، کرپشن یا اختیارات کے غلط استعمال کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:قومی کھلاڑی صہیب مقصود سندھ پولیس کے خلاف کیوں پھٹ پڑے؟

انہوں نے کہا کہ جو پولیس اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں وہ عوام اور پولیس فورس دونوں کے دشمن ہیں۔ ڈی آئی جی کامران نے بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے یقین دلایا کہ بدانتظامی کے مرتکب کسی بھی افسر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ جو لوگ اپنے فرائض کو درست انداز میں انجام دے رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ چند ‘کالی بھیڑوں’ کو پورے محکمہ پولیس کی شبیہ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اوائل میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف آپریشنز (ڈی آئی جی) نے ڈولفن اسکواڈ کے 10 افسران کو بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا تھا۔ برطرفی ایک جامع تحقیقات کے بعد کی گئی جس میں یونٹ کے اندر بڑے پیمانے پر بدانتظامی کا انکشاف ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایم پی اے شیخ امتیاز کی اسمبلی میں پولیس کے خلاف قرارداد پیش

برطرف کیے جانے والے اہلکاروں میں سب انسپکٹر ناصر خان، اسسٹنٹ سب انسپکٹر شاہد اور کانسٹیبل سخاوت، حمزہ، امانت، نقاش اور عرفان شامل ہیں۔

انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈولفن اسکواڈ میں کروڑوں روپے کا کرپشن اسکینڈل سامنے آیا تھا جس کے نتیجے میں اہلکاروں کو برطرف کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ڈولفن اسکواڈ کے زیر استعمال موٹر سائیکلوں اور دیگر گاڑیوں کی مرمت کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تاہم اس رقم میں سے 80 ملین روپے کی خرد برد پائی گئی۔ پروکیورمنٹ افسران اور دیگر اہلکار بھی بدعنوانی میں ملوث پائے گئے کیونکہ ان پر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑیوں کے ناقص پرزوں کی خریداری اور فنڈز کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا

لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی گئی

مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ

کراچی اوپن اسکواش: پہلا دن پاکستانی کھلاڑیوں کے نام رہا

آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ

ویڈیو

ڈنکے کی چوٹ پر آپریشن ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا خیبرپختونخوا حکومت کو سخت جواب

خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

کالم / تجزیہ

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟