کوٹ لکھپت جیل انتظامیہ کا سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد سے انکار

منگل 14 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوٹ لکھپت جیل انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعجاز چودھری کے پروڈکشن آڈرز پر عملدرآمد کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اسلام آباد سے پروڈکشن آڈرز لے کر جیل جانے والی اسلام آباد پولیس کی ٹیم خالی ہاتھ لاہور سے واپس اسلام آباد روانہ ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 18 ماہ سے کوٹ لکھپت جیل میں قید سینیٹر اعجاز چوہدری کی پروڈکشن آرڈر جاری

واضح رہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کی درخواست پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز پی ٹی آئی سینیٹر کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے تھے۔

چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر اعجاز چودھری کی آج سینیٹ اجلاس میں شرکت کے لیے ان کے پروڈکشن آڈرز جاری کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں میرے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں‘، اعجاز چوہدری کا جیل سے خط’

چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر کی کاپیاں سیکریٹری داخلہ، چیف سیکریٹری پنجاب اور متعلقہ حکام کو جاری کی تھیں۔

چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ کے قواعد و ضوابط 2012 کے رول 84 کے تحت دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

باغبانپورہ میں اسکول کی چھت گر گئی، 10 سالہ بچہ جاں بحق، 4 مزدور زخمی

مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر پابندی، اسرائیلی پارلیمان سے متنازع بل  کی ابتدائی منظوری

سام سنگ کا نیا فون لانچ کے لیے تیار،کیا یہ اب تک کا سب سے جدید فون ثابت ہوگا؟

واٹس ایپ گروپ ایڈمن ہر پوسٹ کا ذمہ دار نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز