مودی سرکار کا ’اذان‘ پر نیا وار، مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی

بدھ 2 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں نریندر مودی کی زیرِ قیادت بی جے پی حکومت نے ایک اور متنازع اقدام کے تحت ممبئی کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر عملاً پابندی عائد کر دی ہے، جسے مسلمان حلقے اپنی مذہبی آزادی پر سنگین حملہ قرار دے رہے ہیں۔

پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممبئی شہر کو مکمل طور پر ’لاؤڈ اسپیکرز سے پاک‘ کر دیا گیا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کے مطابق، شہر کے تمام مذہبی مقامات سے پبلک ایڈریس سسٹمز ہٹانے کی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے، ممبئی اب شور سے پاک ہو چکا ہے۔

لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے بعد ممبئی کی کئی مساجد اور نمازیوں نے ’آن لائن اذان‘ ایپ کے ذریعے اذان اور نماز کے اوقات معلوم کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ موبائل ایپ تامل ناڈو کی ایک کمپنی نے تیار کی ہے، جو اب تیزی سے ممبئی کی مساجد اور افراد میں مقبول ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا: مسلمانوں کو بغیر اجازت لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کی اجازت مل گئی

ایپ کی خصوصیات میں پانچوں نمازوں کے اوقات کی اطلاعات، باجماعت نماز کے لیے موبائل نوٹیفکیشن اور اذان کی آواز کا موبائل پر براہِ راست اعلان شامل ہے۔

بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ان کی آئینی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ مودی حکومت پہلے ہی کئی ریاستوں میں حجاب، قربانی، مدارس، اور مساجد کے خلاف اقدامات کے ذریعے مسلمان کمیونٹی کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ اب اذان جیسی بنیادی مذہبی پہچان کو بھی پابندیوں کا سامنا ہے۔

سوشل میڈیا پر مسلمان شہریوں اور مذہبی راہنماؤں نے اس اقدام کو آستین میں چھپی نفرت اور سیکولر بھارت کے چہرے پر دھبہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف مساجد کو نشانہ بنانا تعصب اور امتیازی رویے کی واضح علامت ہے، کیونکہ مندروں اور دیگر مقامات پر اب بھی تقریبات کے دوران لاؤڈ اسپیکر کا استعمال عام ہے۔

مزید پڑھیں: راہول گاندھی نے اذان کی آواز پر تقریر روک دی، ویڈیو وائرل

یہ معاملہ نہ صرف بھارتی داخلی سیاست بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے فورمز پر بھی زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی اقوامِ متحدہ، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

مسلمانوں کی مذہبی شناخت مٹانے کی کڑی؟

مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کا یہ اقدام مسلمانوں کو مذہبی طور پر خاموش کرنے کی ایک منظم مہم کا تسلسل ہے۔ اذان، جو صدیوں سے عبادت کے لیے پکار کا ذریعہ رہی ہے، اب محض ایک موبائل نوٹیفکیشن تک محدود کی جا رہی ہے۔ ایک شہری نے کہا کہ ہمیں لاؤڈ اسپیکر نہیں، حقِ عبادت چاہیے، موبائل ایپ ہمارے ایمان کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

قومی سلامتی کمیٹی کا بھارت کو سخت پیغام، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا

سکھر میں ٹوپی کس نے اتاری؟ گورنر سندھ نہال ہاشمی کی وائرل ویڈیو پرنئی بحث چھڑ گئی

بھارتی وزیر دفاع جرمن آبدوز میں پھنس گئے، تنگ ہیچ سے گزرنے کی ویڈیو وائرل

کینسر کی مریضہ نے لاعلاج قرار دیے جانے کے 5 دن بعد شادی کر لی

استعمال شدہ موبائل فونز پر ڈیوٹیز میں 175 فیصد تک اضافہ، 62 ماڈلز مہنگے

ویڈیو

قومی سلامتی کمیٹی کا بھارت کو سخت پیغام، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار