لیبارٹریوں میں تیار کردہ ‘مصنوعی دماغ’ کا حیران کن استعمال کیا ہے؟

پیر 22 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لیبارٹری میں اُگائے گئے انسانی نیورانز کے خلیوں کے چھوٹے چھوٹے ‘دماغ’، جنہیں عام طور پر ‘مِنی برینز’ کہا جاتا ہے، سائنسی دنیا میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

یہ دراصل مصنوعی دماغی اعضا ہیں جو مکمل انسانی دماغ کے محدود مگر اہم افعال کو سادہ شکل میں پیش کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق لیبارٹریز میں تیار ہونے والے یہ دماغ تحقیق، ادویات کی تیاری، دماغی امراض کے علاج اور حتیٰ کہ کمپیوٹر سائنس میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ انہیں عموماً انسانی خلیات کو مخصوص کیمیائی عمل سے گزار کر تیار کیا جاتا ہے جس کے بعد یہ خلیات 3ڈی ڈھانچے میں بڑھتے ہیں اور دماغی ٹشوز سے ملتی جلتی ساخت اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: انسانی دماغ میں فاصلہ ناپنے کا نظام دریافت، یہ قدرتی گھڑی کیسے کام کرتی ہے؟

حالیہ برسوں میں سائنس دانوں نے مِنی برینز میں حیرت انگیز خصوصیات دیکھیں۔ کسی تجربے میں ان آرگنائیڈز نے آنکھ جیسی ساخت بنائی، تو کسی میں ایسے دماغی برقی سگنلز پیدا ہوئے جو قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے دماغ سے مشابہ تھے۔ ان ماڈلز نے یہ بھی ظاہر کیا کہ بعض ادویات حمل کے دوران بچے کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ الزائمر، پارکنسنز اور دماغی رسولیوں جیسے امراض کی تحقیق میں بھی یہ ماڈلز معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین کو امید ہے کہ مستقبل میں یہ جانوروں پر تحقیق کی ضرورت کم کر دیں گے اور نئی دواؤں کی تیاری میں مددگار ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: سندھ: معذور کردی گئی اونٹنی اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی، مصنوعی ٹانگ کا تجربہ کامیاب

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک تجربے میں انسانی اور چوہے کے خلیات پر مشتمل منی برین نے ‘پونگ’ نامی ویڈیو گیم کھیلنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔ بعض سائنس دان انہیں مستقبل کے ‘بایو کمپیوٹرز’ بنانے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔

اگرچہ فی الحال یہ منی برین شعور یا احساسات رکھنے کے قابل نہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے یہ مزید پیچیدہ ہوں گے اور احساس کرنے لگیں گے، تب یہ اخلاقی سوال اہم ہوجائے گا کہ انہیں تجربات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp