گوگل نے اپنے پلیٹ فارم یوٹیوب سے اسٹوری فیچر کو ختم کیوں کردیا؟

جمعہ 26 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل کے تحت چلنے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم یوٹیوب نے 2017 میں لانچ کرنے والے اسٹوری فیچر کو ختم کردیا، 26 جون 2023 کے بعد یوٹیوب پر اسٹوری آپشن ختم کر دیا جائے گا۔

یوٹیوب انتظامیہ نے اسٹوری فیچر کو ختم کرتے ہوئے بتایا کہ یوٹیوب پر پہلے سے ہی بڑے فارمیٹ کی ویڈیوز، چھوٹے فارمیٹ کی ویڈیوز (یوٹیوب شارٹس) اور لائیو فیچر کی سہولت موجود ہے۔

انتظامیہ کے مطابق لائیو فیچر کے ذریعے پہلے سے ہی صارفین اسٹوریز اپڈیٹ کر لیتے ہیں، جبکہ یوٹیوب شارٹ کے ذریعے چھوٹے فارمیٹ کی ویڈیوز بھی باآسانی لاگئی جا سکتی ہیں۔

کمپنی کے مطابق ان تمام فیچرز کے ہوتے ہوئے یوٹیوب پر اسٹوری کے فیچر کی ضرورت نہیں ہے، باقی کمیونٹی فارمیٹس کو فوقیت دینے کے لیے یوٹیوب اسٹوری کے فیچر کو ختم کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یوٹیوب کری ایٹرز کے لیے پہلے سے ایک فیچر موجود ہے (یوٹیوب شارٹس) جہاں وہ اپنی ویڈیو ایڈٹ کر سکتے ہیں اور اپنی ویڈیو کے کچھ حصے اپنی اسٹوری پر لگا سکتے ہیں جو 24 گھنٹے بعد خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

اس فیچر کے ذریعے مختلف قسم کے پولز، اسٹیکرز، کوئز اور فیچرز کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی پیش کردہ اسلحہ کنٹرول کی 3 قراردادیں اقوام متحدہ میں منظور، بھارت اور اسرائیل کی مخالفت

کانگریس میں نیو جرسی سے پہلے مسلمان رکن منتخب، ڈاکٹر آدم حموی نے تاریخ رقم کر دی

امیگریشن فراڈ تحقیقات کے باوجود الہان عمر پانچویں بار امریکی کانگریس کی رکن منتخب

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا