نیپال کے ریپر سے سیاست دان بننے والے بلندر شاہ نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، وہ گزشتہ سال بدعنوانی مخالف مظاہروں کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اقتدار میں آئے ہیں۔
35 سالہ اصلاح پسند رہنما اور ان کی جماعت راشٹریہ سواتنترا پارٹی نے نوجوانوں کی قیادت میں سیاسی تبدیلی کے نعرے پر اس ماہ ہونے والے انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں ’جنریشن زی‘ تحریک، بھارت کے خطے میں بالادستی کے عزائم بے نقاب
حلف برداری کی تقریب میں بلندر شاہ نے آئین سے وفاداری کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک اور عوام کے مفاد میں کام کریں گے۔ تقریب میں موجود شرکا نے ان کے حق میں نعرے لگائے اور بھرپور استقبال کیا۔
بدعنوانی کے خلاف نوجوانوں کی تحریک کے دوران کم از کم 77 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ احتجاج سوشل میڈیا پر عارضی پابندی کے خلاف شروع ہوا مگر بعد میں معاشی مشکلات اور حکومتی بدانتظامی کے خلاف عوامی غصے میں تبدیل ہو گیا۔
بلندر شاہ، جو بالن کے نام سے زیادہ معروف ہیں، نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی عوامی گفتگو روایتی بیان کے بجائے ایک ریپ گانے کے ذریعے کی، جو سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا اور چند گھنٹوں میں لاکھوں بار دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں ریپر سے سیاستدان بننے والے بالیندر شاہ کی جماعت کو واضح برتری
ان کی جماعت نے 275 رکنی ایوان نمائندگان میں 182 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے پارٹی صدر اور معروف ٹی وی میزبان راوی لامی چھانے کے ساتھ مل کر مہم چلائی، جو اب بھی حکومت میں اہم سیاسی کردار رکھتے ہیں۔
نگراں وزیر اعظم اور سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی نے قوم سے الوداعی خطاب میں کہا کہ ملک کا مستقبل نوجوان قیادت کے ہاتھوں میں ہے اور نئی حکومت سے بدعنوانی کے خاتمے، بہتر حکمرانی، روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی کی امید ہے۔














