ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستان کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی ممکنہ جارحیت روکنے اور خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔ سفیر نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ ایران پاکستان کی خیرسگالی اور فعال سفارتی اقدامات کو خوش آمدید کہتا ہے، جو امن کے قیام اور خطے میں پائیدار استحکام لانے کے لیے ہیں۔
While appreciating the initiative and good will and good office by the friendly & brotherly country of Pakistan to stop the US-sraeli aggression against Iran and restore peace and stability to the region, I have some few points that I will make in some threads here on.
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) March 31, 2026
سفیر نے مزید کہا کہ ایران سیاستی اور سفارتی حل کے ذریعے مسائل حل کرنے کا قائل ہے اور اسی جذبے کے تحت دو دور کی مذاکرات میں بھی بھرپور حصہ لیا، حالانکہ ان مذاکرات کے دوران دونوں جانب حملوں کا سامنا بھی رہا۔ ایران ہمیشہ جنگ کی بجائے مذاکرات اور مکالمے کو ترجیح دیتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ کوششیں غیر منصفانہ اور غیر قانونی جارحیت کو ختم کرنے، بین الاقوامی قوانین و اصولوں پر اعتماد بحال کرنے اور خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔
2/Iran welcomes Pakistan's proactive diplomatic initiatives based on good-will to restore peace and bringing lasting stability to the region.
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) March 31, 2026
سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ سطح کے حکام بھی اس حقیقت کی تصدیق کر چکے ہیں، جن میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعدی شامل ہیں، جنہوں نے کہا کہ امن پہلے ہی ’قریب‘ تھا اور موجودہ ہلاکت خیز حملے قابل افسوس اور ناقابل قبول ہیں۔
سفیر کے مطابق امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کے باوجود ایران نے جوہری معاہدے کی پابندی جاری رکھی، اور بین الاقوامی ایجنسیوں نے ایران کی تعمیل کی بار بار تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کی غیر یقینی صورتحال، عالمی توانائی مارکیٹس میں ہلچل
یہ ثالثی اور سفارتی کوششیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان نے فریقین کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ مذاکرات کو فروغ دے کر خطے میں امن قائم رکھنے کی کوششیں کی ہیں۔














