ایران امریکا جنگ بندی پر سعودی عرب سمیت پاکستان کا عالمی خیرمقدم، ایرانی صدر کی شہباز شریف سے گفتگو میں اسلام آباد مذاکرات میں شمولیت پر رضامندی

بدھ 8 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کی علیٰ الصبح اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ جنگ بندی کے اس اعلان پر پوری دنیا نے نہ صرف پاکستانی کردار کو سراہا بلکہ سعودی عرب سمیت پوری دنیا میں سفارتی کوششوں کی پذیرائی کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں:’بہت کچھ اچھا ہونے جارہا ہے‘، جنگ بندی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا بیان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی تیزی کا رجحان

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور دیرپا امن کے لیے اقدامات کریں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ٹیلیفونک گفتگو

قریباً 45 منٹ سے زائد جاری رہنے والی اس خوشگوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ایرانی قیادت کی دانشمندی اور دور اندیشی کو سراہا، جنہوں نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی، اور وزیراعظم کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان رواں ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش قبول کی۔

وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی اپنے تعظیم  کا اظہار کیا۔ صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کے قیام میں پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

سعودی وزارت خارجہ کا ایران اور امریکا جنگ بندی پر پاکستان کو خراج تحسین

سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

سعودی میڈیا نے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوششوں کو سراہا گیا ہے جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیے: جنگ بندی میں کردار ادا کر کے پاکستان نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا، سفارتی ماہرین

اس بارے میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنائے اور ان تمام عوامل کا حل فراہم کرے جو طویل عرصے سے عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں۔

سعودی میڈیا رپورٹس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہےکہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی قانون، خصوصاً 1982 کے اقوامِ متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت، جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جانا چاہیے اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کی جانب سے ایران اور امریکا کی 2 ہفتے کی جنگ بندی کا خیر مقدم

میڈیا رپورٹس کے مطابق امید کا اظہار کیا گیا کہ جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بنے گی، جس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا اور ایسے تمام اقدامات کا خاتمہ ہوگا جو خطے کے ممالک کی خودمختاری، امن اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔

ترکیہ کا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم اور پاکستان کو مبارکباد۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔

بیان میں پاکستان کو اس پورے عمل میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

امریکی ماہر برائے جنوبی ایشیا مائیکل کوگلیمین نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے جس نے ناقدین کو بھی حیران کر دیا۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان شکوک و شبہات کو غلط ثابت کیا جو اس کی پیچیدہ اور اعلیٰ سطح کی صورتحال کو سنبھالنے کی صلاحیت پر اٹھائے جا رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کا واضح ثبوت ہے۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے پاکستان کی بے مثال اور جراتمند سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں مسلم دنیا کے اتحاد اور عالمی ذمہ داری کی عکاس ہیں۔

نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان، ترکیہ اور مصر کی کوششوں کو سراہا۔

برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ اور آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے بھی اس پیشرفت کو مثبت قرار دیا، جبکہ آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو سراہا۔

عراق کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے مستقل مذاکرات پر زور دیا، جبکہ قازقستان کے صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی دیرپا امن اور عالمی معاشی استحکام کا باعث بنے گی۔

مزید پڑھیں: ایران۔امریکا جنگ بندی میں پاکستان کا کردار، ’نوبل امن انعام شہباز شریف اور عاصم منیر کو ملنا چاہیے‘

واضح رہے کہ وزیرِ اعظم نے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا تھا کہ پاکستان نے اس جنگ بندی میں اہم ثالثی کردار ادا کیا، اور دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مزید مذاکرات کی دعوت بھی دی ہے تاکہ مستقل حل کی جانب پیشرفت کی جا سکے۔

امریکا ایران جنگ بندی، یورپی کمیشن کی سربراہ کا خیرمقدم

یورپی کمیشن کی سربراہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ضروری ہے کہ اس تنازع کے مستقل حل کے لیے مذاکرات جاری رہیں اور یورپی کمیشن اس مقصد کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مربوط رہنے کو یقینی بنائے گا۔

جنگ بندی میں کردار ادا کر کے پاکستان نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا، سفارتی ماہرین

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو ایک تاریخی اور بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق سفیروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کرا کے پاکستان نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا ہے۔

سابق وزیر خارجہ مشاہد حسین سید نے کہا کہ سب سے پہلے تو پوری پاکستانی قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ فیلڈ مارشل نے بہترین کردار ادا کیا اور جنگ بندی میں کلیدی حصہ ڈالا۔ اس وقت پاکستان پوری دنیا کی سفارتی ڈپلومیسی کا مرکز بن چکا ہے اور اس میں پاکستان نے ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ایک بڑی جنگ جو بھڑک رہی تھی اسے پاکستان نے رکوا دیا ہے اور اس کردار کے باعث مستقبل میں پاکستان کا نام مزید روشن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران جنگ بندی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پنجاب اسمبلی کی تائیدی قرارداد منظور

مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں ایک اصولی مؤقف اپنایا، جہاں جارحیت ہوئی اس کی مذمت کی اور مظلوم کا ساتھ دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پاکستان نے بہترین کردار ادا کیا، جہاں ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی لیکن امریکا اور اسرائیل کے حملوں پر خاموشی اختیار کی گئی تو پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔

ان کے مطابق اس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا اور دنیا پر واضح ہوا کہ پاکستان قانونی اور اخلاقی مؤقف رکھتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی پر امریکا اور ایران دونوں رضامند ہوئے اور اس جنگ بندی سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کو فائدہ ہوگا جبکہ عالمی معیشت بھی بہتر ہوگی۔

سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو کہ ایک بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور پاکستان کی سفارتی تاریخ میں یہ ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ اگرچہ پاکستان کی سفارتی تاریخ ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے، تاہم حالیہ کامیابی کو ماضی کی تمام کوششوں کا نقطۂ عروج قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: علاقائی صورتحال پر پاکستان اور یورپی یونین کا رابطہ، امن کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں بلکہ پاکستان پر پڑنے والے معاشی دباؤ میں بھی کمی کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف تھی کیونکہ اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے نکل کر دنیا بھر تک پھیل رہے تھے اور جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا سمیت کئی ممالک اس سے متاثر ہو رہے تھے۔ تاہم پاکستان نے بروقت کردار ادا کر کے جنگ بندی ممکن بنائی اور عالمی سطح پر اپنا قد بلند کیا۔

سابق سفیر نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ اگر گزشتہ دنوں کے بیانات دیکھے جائیں تو ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا ایک بڑی تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا تھا، تاہم پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔

نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ یہ کامیابی کسی ایک دن یا رات کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عمل کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے مصر اور ترکیہ جیسے ممالک کو اعتماد میں لیا، پھر امریکا اور ایران کے ساتھ بات چیت کی جو کہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ ان کے مطابق اس کامیابی کا سہرا اسلام آباد کو جاتا ہے جہاں ملٹری ڈپلومیسی اور حکومت نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ مزید اہم ہے جس میں باقاعدہ مذاکرات کا انعقاد شامل ہوگا، اور اس میں امریکا، ایران کے ساتھ ساتھ چین جیسے بڑے ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات پائیدار ثابت ہوں گے اور اس کے مثبت اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی، اسحاق ڈار کی اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت

سینیئر سفارت کار اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا آغاز سے ہی مؤقف یہی تھا کہ امن قائم ہو اور وہ ہمیشہ امن کے لیے کوشاں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے باعث پاکستان مشکل میں پھنس جائے گا اور کچھ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ اگلا نمبر پاکستان کا ہو سکتا ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے ان خدشات کو غلط ثابت کر دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور حالیہ کامیابی سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مذاکرات ہی امن کا واحد راستہ ہیں۔

ماہر بین الاقوامی امور ہما بقائی نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کرا کے ایک انتہائی اہم اور بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ جنگ بندی نہ ہوتی تو یہ تنازع خطے سے باہر نکل کر عالمی سطح پر پھیل سکتا تھا۔ ان کے مطابق اس دوران روزانہ اہم بیانات سامنے آ رہے تھے اور عالمی سطح پر خوف و ہراس پایا جا رہا تھا۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کو فیس سیونگ نہ ملتی تو دنیا کو بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متوازن سفارت کاری کا مظاہرہ کیا، کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے جہاں غلطی ہوئی وہاں اس کی نشاندہی کی۔

ہما بقائی نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس کامیابی کا کریڈٹ دیا جا رہا ہے، جنہوں نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔ ان کے مطابق پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور امریکا کے ساتھ بہتر انڈرسٹینڈنگ نے اس عمل کو ممکن بنایا اور پاکستان نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی۔

’پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا‘، جنگ بندی پر پاکستانی صحافی بھی قومی سفارتکاری کے معترف

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا عالمی برادری نے خیرمقدم کیا ہے جسے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور پاکستان کی امن قائم کرنے کی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

جہاں عالمی رہنما اور شہری پاکستان کو اس اقدام کے لیے سراہ رہے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچایا وہیں پاکستانی صحافی بھی پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کردار کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مبشر زیدی نے کہا کہ پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔

وسیم عباسی لکھتے ہیں کہ پاکستان کا نام دنیا بھر کے میڈیا چینلز پر عزت اور محبت کے ساتھ گونج رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل بازاروں اور دفاتر میں آتے جائتے اوورسیز پاکستانیوں کے سینے فخر سے چوڑے ہوں گے، ساتھ ہی انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔

صحافی عاصمہ شیرازی نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ پاکستان نام ہے اعتماد کا،  پاکستان زندہ باد۔

وجیہہ ثانی نے کہا کہ یہ ایک ہزار ورلڈکپ جیتنے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی ہے۔

نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ آپ چاہیں پسند کریں یا نا کریںیکن شہباز شریف نے باوقار ریاستی رہنما کے طور پر اپنی میراث قائم کر دی ہے۔

اینکر منیب فاروق کہتے ہیں کہ تنہائی سے عالمی پذیرائی تک، پاکستان آج دنیا کے اسٹیج پر وقار کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا ہے اور داد وصول کر رہا ہے۔ الحمدللہ۔

اعزاز سید نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری کی دنیا میں یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔

مونا عالم کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستانی ہونے پر پہلے کبھی اتنا فخر محسوس نہیں ہوا جتنا آج ہو رہا ہے۔

اسامہ غازی نے کہا کہ الحمد للہ جنگ بند اب اللہ کرے یہ 2 ہفتوں کی جنگ بندی جنگ کے مکمل خاتمے میں بدل جائے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے 10 نکاتی ایجنڈا تیار کیا گیا ہے جس پر بات چیت اسلام آباد میں ہوگی۔ اس ایجنڈے میں ایران

کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے، عائد پابندیوں کے خاتمے اور مستقبل میں ممکنہ حملوں کے خلاف مضبوط ضمانتوں جیسے نکات شامل ہیں۔

 پنجاب اسمبلی کی تائیدی قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے جسے رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے پیش کیا۔ اس قرارداد میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا گیا اور وفاقی حکومت کی سفارتی کامیابی کی بھرپور تائید کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچایا، وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی

قرارداد میں کہا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک اور مخلصانہ کوششوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ بڑے بحران کو روک کر پاکستان کو عالمی سطح پر ’امن کے سفیر‘ کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ ایوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس پیش رفت کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی فتح بتایا۔

حنا پرویز بٹ کی پیش کردہ یہ قرارداد اس بات پر زور دیتی ہے کہ پاکستان نے عالمی تنہائی کے دنوں کے بعد اب حساس خطے میں امن قائم کرنے میں ایک اہم اور قابلِ فخر کردار ادا کیا ہے۔ ایوان نے اس کامیابی کو ملک کی خارجہ پالیسی میں سنگ میل کے طور پر تسلیم کیا۔

پاکستان نے ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچایا، وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی

وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کا کلیدی کردار قابلِ فخر ہے، جس سے خطے میں امن کے قیام کی نئی راہیں کھلی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امت مسلمہ کی قیادت کا حق ادا کیا، سردار عتیق احمد خان

محمد حنیف عباسی نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا، جبکہ ان کی بصیرت افروز قیادت پاکستان کی دفاعی اور سفارتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی فعال اور متحرک سفارتی کوششوں نے جنگ بندی کے عمل کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچا کر امن کا پرچم بلند کیا ہے، اور یہ کامیابی اعلیٰ قیادت کی بصیرت اور مؤثر سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی کامیاب سفارتی کاوشیں خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہیں، جبکہ پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے نمایاں رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا اور ایران 2 ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں کامیاب

محمد حنیف عباسی نے مزید کہا کہ یہ تاریخی کامیابی پاکستان کے روشن اور مضبوط عالمی تشخص کی عکاس ہے، اور دنیا پاکستان کی تعمیری اور مثبت سفارتکاری کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مستقبل میں بھی پاکستان امن، ترقی اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار اسی طرح جاری رکھے گا۔

علاقائی صورتحال پر پاکستان اور یورپی یونین کا رابطہ، امن کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور سفارتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امت مسلمہ کی قیادت کا حق ادا کیا، سردار عتیق احمد خان

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتکاری نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔

امریکا ایران جنگ بندی کے حوالے سے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس کامیاب سفارتی کاوش پر پوری قوم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو ہدیہ تبریک پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس نازک موقع پر امت مسلمہ کی مؤثر قیادت کا حق ادا کیا ہے۔

سردار عتیق نے کہا کہ تاریخ میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اختلاف اور انتشار کے بجائے قومی اتحاد، وحدت اور مشترکہ مقاصد پر یکجا رہتی ہیں۔

انہوں نے امریکی صدر کے جنگ بندی اعلان اور ایرانی قیادت کے مثبت رویے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ جنگ آگے بڑھتی تو خدشہ تھا کہ یہ تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے عمل میں پاکستان کی سفارتکاری نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ پوری دنیا اسلام کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مدبرانہ اور کامیاب سفارتی کوششوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران جنگ بندی: مریم نواز کا خیرمقدم، پاکستانی قیادت کو خراجِ تحسین

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ امریکا ایران تنازع صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ یہ دنیا کو دو تہذیبوں کے تصادم سے بچانے کا اہم سوال ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں پاکستانی قوم کو اپنے داخلی، سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک متحد اور مضبوط ملت کا ثبوت دینا چاہیے۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قطر کی جانب سے بھی سراہا گیا

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے آج قطر کے وزیرِ مملکت، محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔

اس موقع پر خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی مسلسل کوششوں پر روشنی ڈالی، جن کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو فروغ دینا ہے۔

قطر کے وزیرِ مملکت نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور امن قائم کرنے میں اس کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی: اقوام متحدہ پاکستانی کی سفارتی کوششوں کا معترف

انہوں نے وزیرِ خارجہ پاکستان کو قطر کے وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی کی نیک تمناؤں سے بھی آگاہ کیا۔

امریکا ایران جنگ بندی: مریم نواز کا خیرمقدم، پاکستانی قیادت کو خراجِ تحسین

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران 2 ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں کامیاب

اپنے بیان میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو امن کے لیے منتخب کیا اور اس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ خطے اور دنیا میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں نے ناممکن کو ممکن بنایا۔ انہوں نے امریکا، ایران اور اسلامی ممالک کی قیادت کو بھی مبارکباد دی جن کی مشترکہ کوششوں سے اربوں انسانوں کو امن نصیب ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت نے دنیا کو ممکنہ بڑی جنگ سے بچایا اور پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک کے طور پر ابھرا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی کوششوں سے پائیدار امن قائم ہوگا اور عالمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا، جبکہ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت کا کردار امن کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

ایران امریکا جنگ بندی پر دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف، ’نوبل امن انعام شہباز شریف اور عاصم منیر کو ملنا چاہیے‘

ایران اور امریکہ نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے، جسے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جنگ بندی کے اعلان پر پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارتی کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔

عالمی سطح پر اس پیش رفت کو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بھی جنگ بندی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اس جنگ بندی کو ممکن بنانے میں مؤثر اور سفارتی کردار ادا کیا۔

ابصار عالم کہتے ہیں کہ دن رات کی انتھک محنت، مشکل حالات میں بہترین سفارت کاری، دنیا کو جنگ سے بچانے، پاکستانی جھنڈا پوری دنیا میں بلند کرنے، عالمی میڈیا میں پاکستان کی تعریفوں پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ان کی ساری ٹیم اور پوری قوم کو دل سے مبارکباد

صحافی سیرل المیڈا نے لکھا کہ عاصم منیر اور شہباز شریف نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی جنگ کو روکنے اور نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو بچانے پر آپ کا شکریہ۔ آپ کو ہمیشہ ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

نورین سلیم جنجوعہ لکھتی ہیں کہ آج سے پاکستانی جہاں بھی جائیں گے اپنے ملک کے نام سے پہچانے جائیں گے۔ پاکستانی پاسپورٹ اب جہاں بھی جائے ہر امیگریشن کی لائن میں ہر ملک میں ہر میڈیا میں یہ نام انجان یا گمنام ملک کے طور پر نہیں بلکہ نامور مضبوط اور قابلِ احترام ریاست کے طور پر دیکھا جائے گا۔

میر محمد علی خان نے کہا کہ پاکستان زندہ باد۔ جو کام آج پاکستان کرگیا وہ دنیا میں ہزاروں سال تک یاد رکھا جائے گا۔

اسد چوہدری لکھتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دنیا کو بڑی تباہی سے  بچا کر 2 ہفتے کے لیے ایران اور امریکا کی جنگ بندی کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ ہو جائے تو امن کا نوبل ان دونوں کا ہونا چاہیے۔

حیدر عباسی نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ٹرمپ کو نامزد کرتے کرتے چچا نے خود ہی نوبل امن انعام لے لیا۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات اسی تاریخ سے شروع ہوں گے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے 10 نکاتی ایجنڈا تیار کیا گیا ہے جس پر بات چیت اسلام آباد میں ہوگی۔ اس ایجنڈے میں ایران  کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے، عائد پابندیوں کے خاتمے اور مستقبل میں ممکنہ حملوں کے خلاف مضبوط ضمانتوں جیسے نکات شامل ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی، اسحاق ڈار کی اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں امن کا مشن: اسحاق ڈار کے سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور مراکش کے وزرائے خارجہ سے رابطے

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے مراکش، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔

ناصر بوریطہ، فیصل بن فرحان، بدر عبدالعاطی اور ہاکان فیدان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں، مکالمے کے فروغ اور تعمیری رابطوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی: کل تک امید تھی کہ حالات ٹھیک ہوجائیں مگر اب دعا ہی کی جاسکتی ہے، اسحاق ڈار

تمام رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور امن کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ بہتر، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کتنی کمی کا امکان ہے؟

ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، قطر

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

پاکستان اور چین کا مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

آج شہباز شریف نہیں ’شاباش شریف‘، کامیاب سفارتکاری پر پاکستانی فنکار بھی میدان میں

ویڈیو

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

اسکردو میں سانحہ گیاری کے شہدا کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟