وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کی علیٰ الصبح اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ جنگ بندی کے اس اعلان پر پوری دنیا نے نہ صرف پاکستانی کردار کو سراہا بلکہ سعودی عرب سمیت پوری دنیا میں سفارتی کوششوں کی پذیرائی کی جارہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور دیرپا امن کے لیے اقدامات کریں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ٹیلیفونک گفتگو
قریباً 45 منٹ سے زائد جاری رہنے والی اس خوشگوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ایرانی قیادت کی دانشمندی اور دور اندیشی کو سراہا، جنہوں نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی، اور وزیراعظم کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان رواں ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش قبول کی۔
I had a warm and substantive conversation with President Masoud Pezeshkian of Iran, this afternoon.
I conveyed my deep appreciation for the wisdom and sagacity of the Iranian leadership in accepting Pakistan’s offer to host peace talks in Islamabad later this week to work…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 8, 2026
وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی اپنے تعظیم کا اظہار کیا۔ صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کے قیام میں پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔
The Ministry of Foreign Affairs expresses #Qatar‘s appreciation for the efforts of #Pakistan, particularly the efforts of the Prime Minister, the Chief of Defense Forces and Chief of Army Staff of Pakistan, and all parties involved in mediation and good offices that contributed… pic.twitter.com/liB4sUWHtL
— Qatar News Agency (@QNAEnglish) April 8, 2026
انہوں نے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
سعودی وزارت خارجہ کا ایران اور امریکا جنگ بندی پر پاکستان کو خراج تحسین
سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
سعودی میڈیا نے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوششوں کو سراہا گیا ہے جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: جنگ بندی میں کردار ادا کر کے پاکستان نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا، سفارتی ماہرین
اس بارے میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنائے اور ان تمام عوامل کا حل فراہم کرے جو طویل عرصے سے عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں۔
#بيان | تعرب وزارة الخارجية عن ترحيب المملكة العربية السعودية بإعلان فخامة رئيس الولايات المتحدة الأمريكية دونالد ترمب، وإعلان دولة رئيس الوزراء الباكستاني السيد محمد شهباز شريف، عن توصل الولايات المتحدة الأمريكية وجمهورية إيران الإسلامية إلى اتفاق لوقف إطلاق النار بين الولايات… pic.twitter.com/Brz28U8iZM
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) April 8, 2026
سعودی میڈیا رپورٹس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہےکہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی قانون، خصوصاً 1982 کے اقوامِ متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت، جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جانا چاہیے اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کی جانب سے ایران اور امریکا کی 2 ہفتے کی جنگ بندی کا خیر مقدم
میڈیا رپورٹس کے مطابق امید کا اظہار کیا گیا کہ جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بنے گی، جس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا اور ایسے تمام اقدامات کا خاتمہ ہوگا جو خطے کے ممالک کی خودمختاری، امن اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔
ترکیہ کا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم اور پاکستان کو مبارکباد۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے۔
Regarding the Temporary Ceasefire Announced in the War in the Region https://t.co/iK3yhBOJC1 pic.twitter.com/imEsEe8fct
— Turkish MFA (@MFATurkiye) April 8, 2026
بیان میں کہا گیا کہ پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔
بیان میں پاکستان کو اس پورے عمل میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔
🇰🇿 President Kassym-Jomart Tokayev welcomes the achievement of an agreement on a full ceasefire and truce in the #MiddleEast, reached with the mediation of Prime Minister of #Pakistan Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) and Chief of Army Staff of Pakistan, Field Marshal Asim Munir.
This…
— Press Office of the President of Kazakhstan (@aqorda_press) April 8, 2026
امریکی ماہر برائے جنوبی ایشیا مائیکل کوگلیمین نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے جس نے ناقدین کو بھی حیران کر دیا۔
Tonight, Pakistan achieved one of its biggest diplomatic wins in years. It also defied many skeptics and naysayers that didn’t think it had the capacity to pull off such a complex, high stakes feat.
But what matters the most is it helped avert a potential catastrophe in Iran.
— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) April 8, 2026
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان شکوک و شبہات کو غلط ثابت کیا جو اس کی پیچیدہ اور اعلیٰ سطح کی صورتحال کو سنبھالنے کی صلاحیت پر اٹھائے جا رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کا واضح ثبوت ہے۔
I wholeheartedly welcome the latest development in the current US-Iran war, in respect of the ten-point plan as proposed by Iran and positively received by the US.
This proposal augurs well for the restoration of peace and stability, not only to the region but also the rest of… pic.twitter.com/Gyy9vtjJPD
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) April 8, 2026
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے پاکستان کی بے مثال اور جراتمند سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں مسلم دنیا کے اتحاد اور عالمی ذمہ داری کی عکاس ہیں۔
New Zealand welcomes the announcements by the United States and Iran over the past few hours – as we welcome all efforts to bring an end to this conflict.
While this is encouraging news, there remains significant important work to be done in the coming days to secure a lasting…
— Winston Peters (@NewZealandMFA) April 8, 2026
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان، ترکیہ اور مصر کی کوششوں کو سراہا۔
برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ اور آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے بھی اس پیشرفت کو مثبت قرار دیا، جبکہ آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو سراہا۔
Thank you Pakistan for the quiet, effective, diplomatic role you have played in bringing about this vital ceasefire. @CMShehbaz @ForeignOfficePk https://t.co/frHAYxtYTS
— Jane Marriott (@JaneMarriottUK) April 8, 2026
عراق کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے مستقل مذاکرات پر زور دیا، جبکہ قازقستان کے صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی دیرپا امن اور عالمی معاشی استحکام کا باعث بنے گی۔
مزید پڑھیں: ایران۔امریکا جنگ بندی میں پاکستان کا کردار، ’نوبل امن انعام شہباز شریف اور عاصم منیر کو ملنا چاہیے‘
Congratulations Pakistan on your effective diplomacy and efforts to bring peace! Australia wants to see the #ceasefire upheld and a resolution to the conflict.
🇦🇺🤝🇵🇰🕊️ https://t.co/YCqzDwoo1I
— Timothy Kane (@AusHCPak) April 8, 2026
واضح رہے کہ وزیرِ اعظم نے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا تھا کہ پاکستان نے اس جنگ بندی میں اہم ثالثی کردار ادا کیا، اور دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مزید مذاکرات کی دعوت بھی دی ہے تاکہ مستقل حل کی جانب پیشرفت کی جا سکے۔
امریکا ایران جنگ بندی، یورپی کمیشن کی سربراہ کا خیرمقدم
یورپی کمیشن کی سربراہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
I welcome the two-week ceasefire the US and Iran agreed last night. It brings much-needed de-escalation.
I thank Pakistan for its mediation.
Now it is crucial that negotiations for an enduring solution to this conflict continue.
We will continue coordinating with our partners…
— Ursula von der Leyen (@vonderleyen) April 8, 2026
ان کا کہنا تھا کہ اب ضروری ہے کہ اس تنازع کے مستقل حل کے لیے مذاکرات جاری رہیں اور یورپی کمیشن اس مقصد کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مربوط رہنے کو یقینی بنائے گا۔
جنگ بندی میں کردار ادا کر کے پاکستان نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا، سفارتی ماہرین
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو ایک تاریخی اور بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق سفیروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کرا کے پاکستان نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا ہے۔
سابق وزیر خارجہ مشاہد حسین سید نے کہا کہ سب سے پہلے تو پوری پاکستانی قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ فیلڈ مارشل نے بہترین کردار ادا کیا اور جنگ بندی میں کلیدی حصہ ڈالا۔ اس وقت پاکستان پوری دنیا کی سفارتی ڈپلومیسی کا مرکز بن چکا ہے اور اس میں پاکستان نے ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ایک بڑی جنگ جو بھڑک رہی تھی اسے پاکستان نے رکوا دیا ہے اور اس کردار کے باعث مستقبل میں پاکستان کا نام مزید روشن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران جنگ بندی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پنجاب اسمبلی کی تائیدی قرارداد منظور
مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں ایک اصولی مؤقف اپنایا، جہاں جارحیت ہوئی اس کی مذمت کی اور مظلوم کا ساتھ دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پاکستان نے بہترین کردار ادا کیا، جہاں ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی لیکن امریکا اور اسرائیل کے حملوں پر خاموشی اختیار کی گئی تو پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔

ان کے مطابق اس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا اور دنیا پر واضح ہوا کہ پاکستان قانونی اور اخلاقی مؤقف رکھتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی پر امریکا اور ایران دونوں رضامند ہوئے اور اس جنگ بندی سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کو فائدہ ہوگا جبکہ عالمی معیشت بھی بہتر ہوگی۔
سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو کہ ایک بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور پاکستان کی سفارتی تاریخ میں یہ ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ اگرچہ پاکستان کی سفارتی تاریخ ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے، تاہم حالیہ کامیابی کو ماضی کی تمام کوششوں کا نقطۂ عروج قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: علاقائی صورتحال پر پاکستان اور یورپی یونین کا رابطہ، امن کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق
انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں بلکہ پاکستان پر پڑنے والے معاشی دباؤ میں بھی کمی کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف تھی کیونکہ اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے نکل کر دنیا بھر تک پھیل رہے تھے اور جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا سمیت کئی ممالک اس سے متاثر ہو رہے تھے۔ تاہم پاکستان نے بروقت کردار ادا کر کے جنگ بندی ممکن بنائی اور عالمی سطح پر اپنا قد بلند کیا۔
سابق سفیر نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ اگر گزشتہ دنوں کے بیانات دیکھے جائیں تو ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا ایک بڑی تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا تھا، تاہم پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔
نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ یہ کامیابی کسی ایک دن یا رات کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عمل کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے مصر اور ترکیہ جیسے ممالک کو اعتماد میں لیا، پھر امریکا اور ایران کے ساتھ بات چیت کی جو کہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ ان کے مطابق اس کامیابی کا سہرا اسلام آباد کو جاتا ہے جہاں ملٹری ڈپلومیسی اور حکومت نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ مزید اہم ہے جس میں باقاعدہ مذاکرات کا انعقاد شامل ہوگا، اور اس میں امریکا، ایران کے ساتھ ساتھ چین جیسے بڑے ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات پائیدار ثابت ہوں گے اور اس کے مثبت اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی، اسحاق ڈار کی اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت
سینیئر سفارت کار اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا آغاز سے ہی مؤقف یہی تھا کہ امن قائم ہو اور وہ ہمیشہ امن کے لیے کوشاں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے باعث پاکستان مشکل میں پھنس جائے گا اور کچھ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ اگلا نمبر پاکستان کا ہو سکتا ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے ان خدشات کو غلط ثابت کر دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور حالیہ کامیابی سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مذاکرات ہی امن کا واحد راستہ ہیں۔
ماہر بین الاقوامی امور ہما بقائی نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کرا کے ایک انتہائی اہم اور بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ جنگ بندی نہ ہوتی تو یہ تنازع خطے سے باہر نکل کر عالمی سطح پر پھیل سکتا تھا۔ ان کے مطابق اس دوران روزانہ اہم بیانات سامنے آ رہے تھے اور عالمی سطح پر خوف و ہراس پایا جا رہا تھا۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کو فیس سیونگ نہ ملتی تو دنیا کو بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متوازن سفارت کاری کا مظاہرہ کیا، کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے جہاں غلطی ہوئی وہاں اس کی نشاندہی کی۔
ہما بقائی نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس کامیابی کا کریڈٹ دیا جا رہا ہے، جنہوں نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔ ان کے مطابق پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور امریکا کے ساتھ بہتر انڈرسٹینڈنگ نے اس عمل کو ممکن بنایا اور پاکستان نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی۔
’پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا‘، جنگ بندی پر پاکستانی صحافی بھی قومی سفارتکاری کے معترف
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا عالمی برادری نے خیرمقدم کیا ہے جسے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور پاکستان کی امن قائم کرنے کی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
جہاں عالمی رہنما اور شہری پاکستان کو اس اقدام کے لیے سراہ رہے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچایا وہیں پاکستانی صحافی بھی پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کردار کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مبشر زیدی نے کہا کہ پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔
Pakistan made the impossible possible #IranWar
— Mubashir Zaidi (@xadeejourno) April 7, 2026
وسیم عباسی لکھتے ہیں کہ پاکستان کا نام دنیا بھر کے میڈیا چینلز پر عزت اور محبت کے ساتھ گونج رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل بازاروں اور دفاتر میں آتے جائتے اوورسیز پاکستانیوں کے سینے فخر سے چوڑے ہوں گے، ساتھ ہی انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔
آج کتنے پاکستانی خوشی سے سو نہیں پا رہے؟
پاکستان کا نام دنیا کے ہر میڈیا چینل پر عزتوں کے ساتھ محبتوں کے ساتھ گونج رہا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے سینے فخر سے چوڑے ہونگے کل بازاروں دفاتر میں آتے جاتے۔، پاکستان ھمیشہ زندہ باد 🇵🇰❤️— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) April 7, 2026
صحافی عاصمہ شیرازی نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ پاکستان نام ہے اعتماد کا، پاکستان زندہ باد۔
پاکستان ۔۔۔۔ نام ہے اعتماد کا 😊
پاکستان زندہ باد 🇵🇰— Asma Shirazi (@asmashirazi) April 8, 2026
وجیہہ ثانی نے کہا کہ یہ ایک ہزار ورلڈکپ جیتنے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی ہے۔
یہ ایک ہزار ورلڈکپ جیتنے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی ہے۔
— Wajih Sani (@wajih_sani) April 8, 2026
نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ آپ چاہیں پسند کریں یا نا کریںیکن شہباز شریف نے باوقار ریاستی رہنما کے طور پر اپنی میراث قائم کر دی ہے۔
Like it or not…@CMShehbaz has now created the legacy of a statesman.
— Nusrat Javeed (@javeednusrat) April 8, 2026
اینکر منیب فاروق کہتے ہیں کہ تنہائی سے عالمی پذیرائی تک، پاکستان آج دنیا کے اسٹیج پر وقار کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا ہے اور داد وصول کر رہا ہے۔ الحمدللہ۔
From Isolation to Global Recognition, Pakistan today Stands Tall at the Centre stage of World, Smiling and Taking a Bow. Alhumdulillah 🇵🇰 pic.twitter.com/KVNwnsYia4
— Muneeb Farooq (@muneebfaruqpak) April 7, 2026
اعزاز سید نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری کی دنیا میں یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔
In the world of diplomacy, it’s nothing short of a miracle
— Azaz Syed (@AzazSyed) April 8, 2026
مونا عالم کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستانی ہونے پر پہلے کبھی اتنا فخر محسوس نہیں ہوا جتنا آج ہو رہا ہے۔
Haven’t EVER been as Proud as today for being a Pakistani 💪 🇵🇰
— Mona Alam (@MonaAlamm) April 7, 2026
اسامہ غازی نے کہا کہ الحمد للہ جنگ بند اب اللہ کرے یہ 2 ہفتوں کی جنگ بندی جنگ کے مکمل خاتمے میں بدل جائے۔
الحمد للہ جنگ بنداب اللہ کرے یہ 2 ہفتوں کی جنگ بندی جنگ کے مکمل خاتمے میں بدل جائے۔
— Muhammad Usama Ghazi (@ghaziusama) April 8, 2026
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے 10 نکاتی ایجنڈا تیار کیا گیا ہے جس پر بات چیت اسلام آباد میں ہوگی۔ اس ایجنڈے میں ایران
کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے، عائد پابندیوں کے خاتمے اور مستقبل میں ممکنہ حملوں کے خلاف مضبوط ضمانتوں جیسے نکات شامل ہیں۔
پنجاب اسمبلی کی تائیدی قرارداد منظور
پنجاب اسمبلی نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے جسے رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے پیش کیا۔ اس قرارداد میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا گیا اور وفاقی حکومت کی سفارتی کامیابی کی بھرپور تائید کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچایا، وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی
قرارداد میں کہا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک اور مخلصانہ کوششوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ بڑے بحران کو روک کر پاکستان کو عالمی سطح پر ’امن کے سفیر‘ کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ ایوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس پیش رفت کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی فتح بتایا۔

حنا پرویز بٹ کی پیش کردہ یہ قرارداد اس بات پر زور دیتی ہے کہ پاکستان نے عالمی تنہائی کے دنوں کے بعد اب حساس خطے میں امن قائم کرنے میں ایک اہم اور قابلِ فخر کردار ادا کیا ہے۔ ایوان نے اس کامیابی کو ملک کی خارجہ پالیسی میں سنگ میل کے طور پر تسلیم کیا۔
پاکستان نے ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچایا، وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی
وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کا کلیدی کردار قابلِ فخر ہے، جس سے خطے میں امن کے قیام کی نئی راہیں کھلی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امت مسلمہ کی قیادت کا حق ادا کیا، سردار عتیق احمد خان
محمد حنیف عباسی نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا، جبکہ ان کی بصیرت افروز قیادت پاکستان کی دفاعی اور سفارتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی فعال اور متحرک سفارتی کوششوں نے جنگ بندی کے عمل کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچا کر امن کا پرچم بلند کیا ہے، اور یہ کامیابی اعلیٰ قیادت کی بصیرت اور مؤثر سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی کامیاب سفارتی کاوشیں خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہیں، جبکہ پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے نمایاں رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور ایران 2 ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں کامیاب
محمد حنیف عباسی نے مزید کہا کہ یہ تاریخی کامیابی پاکستان کے روشن اور مضبوط عالمی تشخص کی عکاس ہے، اور دنیا پاکستان کی تعمیری اور مثبت سفارتکاری کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مستقبل میں بھی پاکستان امن، ترقی اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار اسی طرح جاری رکھے گا۔
علاقائی صورتحال پر پاکستان اور یورپی یونین کا رابطہ، امن کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور سفارتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امت مسلمہ کی قیادت کا حق ادا کیا، سردار عتیق احمد خان
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتکاری نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔
امریکا ایران جنگ بندی کے حوالے سے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس کامیاب سفارتی کاوش پر پوری قوم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو ہدیہ تبریک پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس نازک موقع پر امت مسلمہ کی مؤثر قیادت کا حق ادا کیا ہے۔

سردار عتیق نے کہا کہ تاریخ میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اختلاف اور انتشار کے بجائے قومی اتحاد، وحدت اور مشترکہ مقاصد پر یکجا رہتی ہیں۔
انہوں نے امریکی صدر کے جنگ بندی اعلان اور ایرانی قیادت کے مثبت رویے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ جنگ آگے بڑھتی تو خدشہ تھا کہ یہ تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے عمل میں پاکستان کی سفارتکاری نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ پوری دنیا اسلام کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مدبرانہ اور کامیاب سفارتی کوششوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران جنگ بندی: مریم نواز کا خیرمقدم، پاکستانی قیادت کو خراجِ تحسین
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ امریکا ایران تنازع صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ یہ دنیا کو دو تہذیبوں کے تصادم سے بچانے کا اہم سوال ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں پاکستانی قوم کو اپنے داخلی، سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک متحد اور مضبوط ملت کا ثبوت دینا چاہیے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قطر کی جانب سے بھی سراہا گیا
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے آج قطر کے وزیرِ مملکت، محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔
اس موقع پر خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی مسلسل کوششوں پر روشنی ڈالی، جن کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو فروغ دینا ہے۔

قطر کے وزیرِ مملکت نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور امن قائم کرنے میں اس کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی: اقوام متحدہ پاکستانی کی سفارتی کوششوں کا معترف
انہوں نے وزیرِ خارجہ پاکستان کو قطر کے وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی کی نیک تمناؤں سے بھی آگاہ کیا۔
امریکا ایران جنگ بندی: مریم نواز کا خیرمقدم، پاکستانی قیادت کو خراجِ تحسین
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران 2 ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں کامیاب
اپنے بیان میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو امن کے لیے منتخب کیا اور اس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ خطے اور دنیا میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں نے ناممکن کو ممکن بنایا۔ انہوں نے امریکا، ایران اور اسلامی ممالک کی قیادت کو بھی مبارکباد دی جن کی مشترکہ کوششوں سے اربوں انسانوں کو امن نصیب ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت نے دنیا کو ممکنہ بڑی جنگ سے بچایا اور پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک کے طور پر ابھرا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی کوششوں سے پائیدار امن قائم ہوگا اور عالمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا، جبکہ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت کا کردار امن کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ایران امریکا جنگ بندی پر دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف، ’نوبل امن انعام شہباز شریف اور عاصم منیر کو ملنا چاہیے‘
ایران اور امریکہ نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے، جسے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جنگ بندی کے اعلان پر پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
Statement on behalf of the Supreme National Security Council of the Islamic Republic of Iran: pic.twitter.com/cEtBNCLnWT
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 7, 2026
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارتی کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔

عالمی سطح پر اس پیش رفت کو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بھی جنگ بندی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اس جنگ بندی کو ممکن بنانے میں مؤثر اور سفارتی کردار ادا کیا۔
Thank you Pakistan for the quiet, effective, diplomatic role you have played in bringing about this vital ceasefire. @CMShehbaz @ForeignOfficePk https://t.co/frHAYxtYTS
— Jane Marriott (@JaneMarriottUK) April 8, 2026
ابصار عالم کہتے ہیں کہ دن رات کی انتھک محنت، مشکل حالات میں بہترین سفارت کاری، دنیا کو جنگ سے بچانے، پاکستانی جھنڈا پوری دنیا میں بلند کرنے، عالمی میڈیا میں پاکستان کی تعریفوں پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ان کی ساری ٹیم اور پوری قوم کو دل سے مبارکباد
دن رات کی انتھک محنت، مُشکل حالات میں بہترین سفارت کاری، دُنیا کو جنگ سے بچانے، پاکستانی جھنڈا پُوری دُنیا میں بلند کرنے، عالمی میڈیا میں پاکستان کی تعریفوں پر وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم مُنیر، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، اُن کی ساری ٹیم، پُوری قوم کو دل سے مُبارکباد
🧿— Absar Alam (@AbsarAlamHaider) April 8, 2026
صحافی سیرل المیڈا نے لکھا کہ عاصم منیر اور شہباز شریف نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا۔
Asim and Shahbaz… save the world…
— cyril almeida (@cyalm) April 7, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی جنگ کو روکنے اور نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو بچانے پر آپ کا شکریہ۔ آپ کو ہمیشہ ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
Thank you @CMShehbaz Saheb for stopping a nuclear war and saved not only gulf but the entire world. You will be remembered as a hero till the end of the world. God Bless you.🙏🌹
— KRK (@kamaalrkhan) April 7, 2026
نورین سلیم جنجوعہ لکھتی ہیں کہ آج سے پاکستانی جہاں بھی جائیں گے اپنے ملک کے نام سے پہچانے جائیں گے۔ پاکستانی پاسپورٹ اب جہاں بھی جائے ہر امیگریشن کی لائن میں ہر ملک میں ہر میڈیا میں یہ نام انجان یا گمنام ملک کے طور پر نہیں بلکہ نامور مضبوط اور قابلِ احترام ریاست کے طور پر دیکھا جائے گا۔
آج سے پاکستانی جہاں بھی جائیں گے اپنے ملک کے نام سے پہچانے جائیں گے ۔ پاکستانی پاسپورٹ اب جہاں بھی جائے ہر امیگریشن کی لائن میں ہر ملک میں ہر میڈیا میں یہ نام انجان یا گمنام ملک کے طور پر نہیں بلکہ نامور مضبوط اور قابلِ احترام ریاست کے طور پر دیکھا جائے گا ۔
— Naureen Saleem Janjua (@NaureenJanjua) April 8, 2026
میر محمد علی خان نے کہا کہ پاکستان زندہ باد۔ جو کام آج پاکستان کرگیا وہ دنیا میں ہزاروں سال تک یاد رکھا جائے گا۔
پھر کہونگا۔
پاکستان زندہ باد۔ جو کام آج پاکستان کرگیا وہ دنیا میں ہزاروں سال تک یاد رکھا جائیگا۔ ۔
— Mir Mohammad Alikhan (@MirMAKOfficial) April 7, 2026
اسد چوہدری لکھتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا کر 2 ہفتے کے لیے ایران اور امریکا کی جنگ بندی کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ ہو جائے تو امن کا نوبل ان دونوں کا ہونا چاہیے۔
شہباز شریف/فیلڈ مارشل نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا کر 2 ہفتے کی ایران/امریکا جنگ بندی کروا دی۔
ٹرمپ/ایران۔۔۔مان گئے
(معاہدہ ہو جائے تو امن کا نوبل ان دونوں کا ہونا چاہیے)فیلڈ مارشل/شہباز شریف(پاکستان) کی وجہ سے خلیجی ممالک اور پوری دنیا 2 ہفتے کے لیے فی الحال تباہی سے بچ گئی۔… pic.twitter.com/P2aqQxi6if
— Asad R Chaudhry (@Asadrchaudhry) April 7, 2026
حیدر عباسی نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ٹرمپ کو نامزد کرتے کرتے چچا نے خود ہی نوبل امن انعام لے لیا۔
Trump ko nominate karte karte Chachu ne khud Nobel Peace Prize le leea.
— Haider Abbasi (@HaiderKAbbasi) April 7, 2026
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات اسی تاریخ سے شروع ہوں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے 10 نکاتی ایجنڈا تیار کیا گیا ہے جس پر بات چیت اسلام آباد میں ہوگی۔ اس ایجنڈے میں ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے، عائد پابندیوں کے خاتمے اور مستقبل میں ممکنہ حملوں کے خلاف مضبوط ضمانتوں جیسے نکات شامل ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی، اسحاق ڈار کی اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں امن کا مشن: اسحاق ڈار کے سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور مراکش کے وزرائے خارجہ سے رابطے
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے مراکش، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔
ناصر بوریطہ، فیصل بن فرحان، بدر عبدالعاطی اور ہاکان فیدان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں، مکالمے کے فروغ اور تعمیری رابطوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی: کل تک امید تھی کہ حالات ٹھیک ہوجائیں مگر اب دعا ہی کی جاسکتی ہے، اسحاق ڈار
تمام رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور امن کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔














