وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات جاری ہیں، اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جبکہ ایرانی وفد بھی وزیراعظم سے ملا۔
ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، جبکہ وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن رضا نقوی شریک تھے۔
وزیر اعظم نے دونوں وفود کی جانب سے تعمیری انداز میں مذاکرات میں شرکت کے عزم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات! pic.twitter.com/upgZhNfLKd
— WE News (@WENewsPk) April 11, 2026
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن کے حصول کے لیے دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
پاکستان عالمی امن و استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا، وزیراعظم کی ایرانی وفد سے گفتگو
دریں اثنا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے آج اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے ملاقات کی۔
ایرانی وفد کی قیادت ایران کی مجلسِ شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی بھرپور شرکت کی تعریف کی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے اور عالمی امن و استحکام کی خاطر اپنا مصالحانہ کردار مخلصانہ طور پر ادا کرتا رہے گا تاکہ ان مذاکرات کے بامعنی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
پاکستانی وفد کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے وفود ہفتہ کو اسلام آباد پہنچے، جہاں وہ پائیدار امن کے لیے پاکستان کی میزبانی میں اہم مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔

امریکا کا ایک اعلیٰ سطح وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا، جہاں وہ اہم اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کررہا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے وفد کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے مذاکرات کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وفد میں شامل ہیں۔ وفد کی آمد پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے استقبال کیا۔
اسلام آباد امن مذاکرات: اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا نور خان ایئر بیس پر استقبال کیا pic.twitter.com/NIJ5FnqBP6
— WE News (@WENewsPk) April 11, 2026
اس موقع پر اسحاق ڈار نے امریکی قیادت کے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے عزم کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات میں شامل فریقین تعمیری انداز اپنائیں گے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور فریقین کے درمیان دیرپا اور پائیدار حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد
ایران کا اعلیٰ سطحی وفد امریکا کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے لیے جمعہ کی رات اسلام آباد پہنچا، جہاں اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔
بریکنگ نیوز : ایرانی وفد مذاکرات کیلئے اسلام آباد پہنچ گیا،وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود استقبال کیا ۔ pic.twitter.com/VLcv4dk8Z2
— WE News (@WENewsPk) April 10, 2026
یہ مذاکرات امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کو کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے رواں ہفتے کی گئی اپیل کے بعد فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی، جس کے بعد ہفتہ کو باضابطہ مذاکرات شیڈول کیے گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکریٹری، ایران کے مرکزی بینک کے گورنر اور دیگر ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد آمد پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وفد کا استقبال کیا۔
🔊PR No.9️⃣8️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Arrival of the delegation of the Islamic Republic of Iran for Islamabad Talks pic.twitter.com/wanC34wBKK
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 10, 2026
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے، اور پاکستان کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تنازع کے دیرپا اور پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ طور پر ایک مستقل امن معاہدے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ پاکستان ایک بار پھر کلیدی سفارتی کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے۔
’دیکھا جائے گا کہ صورتحال کس طرف جاتی ہے‘، ڈونلڈ ٹرمپ کا اسلام آباد مذاکرات پر تبصرہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو پہلے ہی فوجی شکست ہو چکی ہے اور اب آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھولا جائے گا، جبکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہم دیکھیں گے کہ مذاکرات میں کیا ہو رہا ہے،ایران فوجی طور پر شکست کھا چکے ہے اور اب ہم آبنائےہرمزکو کھولنے جا رہے ہیں۔مذاکرات کیلئےہمارے پاس ایک اچھی ٹیم ہے اور وہ کل ملاقات کریں گے۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ یہ سب کیسے آگے بڑھتا ہے،ڈونلڈٹرمپ pic.twitter.com/131fRKExv9
— WE News (@WENewsPk) April 10, 2026
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کے نتائج کا انتظار کیا جائے گا، تاہم امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایک مضبوط مذاکراتی ٹیم موجود ہے جو کل ملاقات کرے گی اور اس کے بعد صورتحال مزید واضح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاملات تیزی سے حل نہ ہوئے تو امریکا ایک یا دوسرے طریقے سے انہیں انجام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے استقبال کیا
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو عسکری طور پر شکست ہو چکی ہے اور خطے میں امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں اس کی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ، فضائیہ اور دفاعی نظام کو ختم کر دیا گیا ہے اور اب دیکھا جائے گا کہ صورتحال کس طرف جاتی ہے۔
رپورٹر: آپ انہیں آبنائے پر ٹول لینے کی اجازت تو نہیں دیں گے نا؟
ٹرمپ:نہیں، ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے، یہ بین الاقوامی پانی ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کریں گے تو ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ pic.twitter.com/MfosKNB7jD— WE News (@WENewsPk) April 10, 2026
ایک سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹیکس یا محصول وصول کرنے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ یہ بین الاقوامی سمندری گزرگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران ایسی کوئی کوشش کرتا ہے تو اسے روکا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل جنگ کے شعلے بجھانے اور امن کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، شہباز شریف
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی بنیادی نکتہ ہے اور اس کے بغیر کوئی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
ٓآپ کیلئے بہترین ڈیل کیاہوگی؟صحافی کاسوال
ڈونلڈ ٹرمپ :سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ pic.twitter.com/6YFEoluJIw— WE News (@WENewsPk) April 10, 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنا ناگزیر ہے کیونکہ عالمی تجارت اور دیگر ممالک کا انحصار اس پر ہے، اور اگر ایران خود اسے نہ کھولے تو بھی اسے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا خود اس گزرگاہ پر زیادہ انحصار نہیں کرتا، تاہم دیگر ممالک اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ بھی اس عمل میں معاون ثابت ہوں گے۔
اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کی اسلام آباد مذاکرات کے دوران اہم ملاقات
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کی اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوران ملاقات ہوئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقل مکالمے کا تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Governor of the Central Bank of Iran, Dr. Abdolnasser Hemmati called on Deputy Prime Minister/ Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 today, on the sidelines of the #IslamabadTalks.
Both sides emphasised the importance of sustained dialogue and noted that… pic.twitter.com/IftAGuSbWW
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 11, 2026
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ڈاکٹر عبدالناصر ہمتی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام ہی وہ بنیاد ہے جس پر معاشی تعاون اور مشترکہ ترقی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔
دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ علاقائی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پرامن ماحول ناگزیر ہے۔
ملاقات میں اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششوں اور ‘اسلام آباد ٹاکس’ کی اہمیت کو سراہا گیا، جو خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہیں۔
عالمی امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار باعث مسرت ہے، بیرسٹر گوہر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد میں جاری بین الاقوامی مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر ہونے والی یہ سفارتی کوششیں خطے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے تمام غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔
انہوں نے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایک پائیدار، مستحکم اور دیرپا امن کے قیام کے لیے دعاگو ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عالمی امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار ادا کرنا ہم سب کے لیے باعثِ مسرت ہے۔
انہوں نے امن کے اس عمل میں شامل تمام متعلقہ فریقین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بیٹھک مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی بنیاد فراہم کرنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
امن مذاکرات نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہیں، شہباز شریف
اس سے قبل گزشتہ رات وزیراعظم پاکستان شہباز شریف قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے خلیج میں اب جنگ نہیں امن کی باتیں ہو رہی ہیں، اور جو فریق جنگ میں آمنے سامنے تھے وہ اب بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے پر راضی ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے اس پیش رفت پر برادر ملک ایران اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک نے ان کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کیا۔
دنیا میں امن قائم ہو، اس کے لیے کل اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کی قیادت موجود ہوگی۔ پاکستانی قیادت ان مذاکرات کو کامیاب کروانے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گی، جبکہ باقی نتائج اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وزیراعظم شہبازشریف pic.twitter.com/jtBmrzRsRz
— WE News (@WENewsPk) April 10, 2026
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے ان کی خدمات کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، کیوں فیلڈ مارشل نے جنگ کے شعلوں کو بجھاتے ہوئے فریقین کی بات چیت میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہاکہ میں بہترین سفارتکاری پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا نے ان کی تجویز قبول کر کے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور پاکستانی قیادت مذاکرات کو کامیاب کرانے کے لیے پوری کوشش کرے گی۔
وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کا اعلان کیا، جس کے مطابق ڈیزل کی قیمت 135 روپے کمی اور پیٹرول 12 روپے سستا کیا گیا ہے۔
پاکستان کا عالمی سطح پر ابھرتا ہوا کردار باعثِ فخر ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ آج کا دن پاکستان کے لیے ایک فخر کا مقام ہے، کیونکہ ہمارا ملک عالمی سطح پر ایک قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے جس کا ماضی میں تصور بھی مشکل تھا۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں مریم نواز نے کہاکہ وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ملک کے وقار اور قومی فخر کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
Today is a proud moment for Pakistan. Few could have imagined our nation taking a leading role on the global stage, yet here we stand.
The Prime Minister, Deputy Prime Minister, and our Field Marshal have played a pivotal role in restoring the country’s stature and pride. Their…
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) April 11, 2026
انہوں نے مزید کہاکہ قومی قیادت کی بدولت پاکستان کو ایک نیا اعتماد اور عزت ملی ہے، جس نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات: مقامی و غیر ملکی میڈیا کے لیے مفت شٹل سروس کا اعلان
حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے اہم بین الاقوامی مذاکرات کے موقع پر مقامی اور غیر ملکی میڈیا نمائندگان کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد صحافیوں کی آمدورفت کو آسان بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات: ’اسلام آباد ٹاکس‘ سینٹر قائم، کوریج کے لیے غیر ملکی میڈیا پہنچ گیا
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ شٹل سروس 11 اپریل 2026 سے صبح 6 بجے سے دستیاب ہوگی، جو جناح کنونشن سینٹر میں قائم میڈیا فیسلیٹیشن سینٹر تک صحافیوں کو لے کر جائے گی۔ شٹل سروس مقررہ وقفوں سے سینٹورس مال (ایف-8 سائیڈ پارکنگ) سے روانہ ہوگی۔

حکام نے ہدایت کی ہے کہ میڈیا نمائندگان شٹل میں سوار ہونے سے قبل جناح کنونشن سینٹر کے لیے جاری کردہ خصوصی ایکسس کارڈ اپنے ہمراہ رکھیں۔ مزید معلومات کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے تحت اس اقدام کو میڈیا کی آسانی اور بہتر کوریج کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
فریقین کی جانب سے تعمیری رویہ دیکھنے میں آیا، امریکا میں پاکستان کے سفیر کا میٹ دی پریس میں اظہار خیال
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں ایک اہم اور مؤثر سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک امریکا تعلقات خطے اور عالمی امن کے لیے انتہائی اہم ہیں، رضوان سعید شیخ
امریکی نشریاتی ادارے کے معروف پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں میزبان کرسٹن ویلکر سے گفتگو کرتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام عمل کے دوران اعلیٰ سطح کی سفارتی کوششیں جاری رہیں اور پاکستان نے اپنی مثبت روایات کو برقرار رکھتے ہوئے مؤثر کردار ادا کیا۔
Ambassador Rizwan Saeed Sheikh joined Kristen Welker @kwelkernbc on Meet the Press @MeetThePress to discuss Pakistan’s pivotal diplomatic role and ongoing efforts to advance dialogue and regional stability. pic.twitter.com/OwUp1oPlzH
— Pakistan Embassy US (@PakinUSA) April 11, 2026
سفیر پاکستان نے بتایا کہ اس سفارتی عمل میں سعودی عرب، مصر، ترکی سمیت دیگر شراکت دار ممالک نے بھی تعاون اور حمایت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں شروع ہونے والے مذاکرات میں فریقین کی جانب سے تعمیری رویہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اصل ذمہ داری متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ باہمی مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بات چیت اور باہمی سمجھ بوجھ ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں، پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور عالمی برادری اس معاملے کے پرامن حل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں اور اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سفارتکاری کو مکمل موقع دیا جائے تاکہ دیرپا امن ممکن بنایا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ بندی کے حوالے سے قوم سے خطاب کیوں نہیں کیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
امریکا میں وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی کے اعلان پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ ٹیلی ویژن خطاب کا منصوبہ زیر غور لانے کے بعد اسے ترک کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ جنگ بندی معاہدے کی نازک اور غیر واضح صورتحال تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر کے قریبی مشیروں کو خدشہ تھا کہ اس مرحلے پر قوم سے خطاب کرنے سے جنگ بندی کو ضرورت سے زیادہ کامیاب ظاہر کیا جا سکتا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کے کئی اہم پہلو ابھی تک طے نہیں پائے۔ صدر ٹرمپ خطاب کرنے کے خواہاں تھے، تاہم سینیئر مشیروں نے انہیں قائل کیا کہ مکمل وضاحت کے بغیر خطاب کرنا قبل از وقت ہوگا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس تاثر کی تردید کی کہ یہ معاملہ صدر کی سطح تک پہنچا۔

صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان اچانک سوشل میڈیا کے ذریعے کیا، جو ایک غیر متوقع پیش رفت تھی، کیونکہ اس سے قبل انہوں نے ایران کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکیاں دی تھیں۔ اس اچانک پالیسی تبدیلی کو امریکی خارجہ حکمت عملی میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھی ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف عالمی منڈیوں بلکہ آئندہ مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہے، وزیراعظم شہباز شریف
دوسری جانب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز آج سے ہورہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی بدستور موجود ہے، جس کے باعث پائیدار امن کا حصول ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر، رائے عامہ میں نمایاں مثبت تبدیلی
ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان کے عالمی امیج میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور عالمی رائے عامہ میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے 14 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد مارچ کے آخر میں پاکستان کے بارے میں 90 فیصد منفی تاثر کم ہو کر 8 اپریل تک 70 فیصد سے زائد مثبت ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات: وزرات اطلاعات نے غیر ملکی میڈیا کے لیے گائیڈ لائنز جاری کر دیں
یہ اعداد و شمار عالمی ادارے آئپسوس کی سوشل لسٹننگ رپورٹ میں سامنے آئے، جس میں پاکستان کی سفارتی حیثیت سے متعلق عالمی ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 23 مارچ کو پاکستان، امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی رابطوں کے بعد عالمی سطح پر بحث کا آغاز ہوا، تاہم ابتدائی ردعمل زیادہ تر منفی تھا۔ ناقدین نے پاکستان کے داخلی سیاسی و معاشی مسائل، خطے میں کشیدگی اور غیر جانبداری پر سوالات کو اس کی وجوہات قرار دیا۔

امریکا، بھارت اور خود پاکستان میں بھی کئی حلقوں نے حکومت کی حکمت عملی پر شکوک کا اظہار کیا۔ تاہم 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی اور عالمی بیانیہ مثبت رخ اختیار کر گیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات: تعمیری رویہ دیکھنے میں آیا، امریکا میں پاکستانی سفیر کا میٹ دی پریس میں اظہار خیال
رپورٹ میں اس تبدیلی کو ایک ‘اہم موڑ’ قرار دیا گیا ہے، جہاں سوشل میڈیا پر تھینک یو پاکستان جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے اور پاکستان کو بڑے تنازع سے بچانے کا کریڈٹ دیا گیا۔
عالمی سطح پر وزیرِاعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی قیادت کو بھی سراہا گیا، جبکہ ماہرین نے امید ظاہر کی کہ اس پیش رفت سے آبنائے ہرمز کھلنے اور عالمی ایندھن بحران میں کمی آئے گی۔
اب توجہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات پر مرکوز ہے، جہاں مستقل امن کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات، ایٹمی پروگرام اور پابندیاں مرکزی نکات
اسلام آباد میں امریکا اور ایران آمنے سامنے بیٹھ گئے ہیں، جہاں متعدد پیچیدہ اور حساس معاملات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات حالیہ نازک جنگ بندی کو آگے بڑھانے اور کسی وسیع معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات 2 مختلف تجاویز کے گرد گھوم رہے ہیں، جن میں ایران کا 10 نکاتی فریم ورک اور امریکا کا 15 نکاتی منصوبہ شامل ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
مزید پڑھیں:ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر، رائے عامہ میں نمایاں مثبت تبدیلی، رپورٹ
مذاکرات کا سب سے اہم نکتہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے۔ امریکا اس بات کی سخت یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، ساتھ ہی یورینیم افزودگی پر سخت پابندیاں اور انٹرنیشنل اامک انرجی ایجنسی کی جانب سے کڑی نگرانی بھی چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام اور افزودگی کے حق کو اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دے رہا ہے۔
اقتصادی پابندیاں بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ ایران تمام امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے فوری خاتمے اور بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکا مرحلہ وار نرمی کا حامی ہے، جسے ایران کی شرائط پر عملدرآمد سے مشروط کیا جائے۔

اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول بھی تنازع کا سبب ہے۔ ایران اس پر اپنے کردار کو تسلیم کروانا چاہتا ہے، جبکہ امریکا عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل آزادی اور تحفظ پر زور دے رہا ہے۔
خطے میں اثر و رسوخ کے معاملے پر بھی اختلافات ہیں۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی مدد ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران ان گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہا ہے۔
ایران نے امریکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کی ضمانت بھی مانگی ہے، تاہم امریکا نے اس حوالے سے کوئی آمادگی ظاہر نہیں کی۔
ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ امریکا اس پروگرام پر پابندیاں چاہتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنے دفاع کا حق قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیں:کیا ایران امریکا جنگ بندی کے بعد کوئٹہ میں ایرانی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے؟
ذرائع کے مطابق حالیہ تنازعات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کا معاملہ بھی زیر غور ہے، جبکہ امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں پر حملوں کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
2 ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ پیشرفت مرحلہ وار ہوگی، جس کا آغاز اعتماد سازی کے اقدامات سے کیا جائے گا۔ فوری کسی بڑے بریک تھرو کی امید کم ہے، تاہم مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنے اور جنگ بندی میں توسیع کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں امریکا ایران تاریخ ساز مذاکرات کا آغاز، پاکستان کے سفارتی کردار کی عالمی سطح پر پذیرائی
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امن مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی امیدیں مزید روشن ہو گئی ہیں۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کو عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ امریکی خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف بھی اسلام آباد میں موجود ہوں گے۔ دوسری جانب ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر، رائے عامہ میں نمایاں مثبت تبدیلی، رپورٹ
ایرانی وفد کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا۔
پاکستان نے نہ صرف ان مذاکرات کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ فریقین کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کو ممکن بنانے میں بھی اہم سفارتی کوششیں کیں۔ یورپی ممالک نے بھی پاکستان کی ان کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فرانس اور نیدرلینڈز کے ہم منصبوں سے رابطوں میں اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھیں گے اور ایک دیرپا حل سامنے آئے گا۔ انہوں نے پاکستان کے اس عزم کو دہرایا کہ وہ خطے میں امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو عالمی طور پر پذیرائی حاصل ہوچکی ہے اور کئی ممالک نے پاکستان کی انتھک کاوشوں کو سراہے ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات: وزرات اطلاعات نے غیر ملکی میڈیا کے لیے گائیڈ لائنز جاری کر دیں
حکومت پاکستان نے مذاکرات کے شرکا اور صحافیوں کے لیے آن ارائیول ویزا کی سہولت بھی فراہم کی ہے، جس سے عالمی برادری کو سہولت میسر آئی ہے۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت وفاقی دارالحکومت کے ریڈزون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ مہمان وفود کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں یہ مذاکرات نہ صرف خطے کے لیے اہم ہیں بلکہ پاکستان کی عالمی سفارتی حیثیت کو مزید مضبوط بنانے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔














