امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر اور جامع معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات کے بعد بھی پاکستان کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری ہیں، ایران
جارجیا کے ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے امریکا و ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جو ایک نازک جنگ بندی پر مبنی ہے جو تقریباً ایک ہفتے سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ امریکا و ایران کے درمیان جنگ بندی 6 یا 7 دن سے برقرار ہے۔
وینس نے کہا کہ ٹرمپ کا مقصد چھوٹا موٹا معاہدہ کرنا نہیں ہے بلکہ وہ ایک جامع اور عظیم معاہدہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ جو ایران کو پیشکش کر رہے ہیں وہ بہت سادہ ہے اگر آپ ایک نارمل ملک کی طرح سلوک کریں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ اقتصادی طور پر ایک نارمل ملک کی طرح سلوک کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے دوران کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا۔ وہ مذاکرات 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکا و اسرائیل کے ایران کے خلاف آپریشن کو ختم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھے جس میں ایران اور لبنان میں 3,300 سے زیادہ افراد شہید ہوئے۔ اس کے بعد ایک عارضی (2 ہفتوں کی) جنگ بندی کی گئی۔
مزید پڑھیے: ایران جنگ نہیں، مذاکرات چاہتا ہے: صدر پزشکیان کا دوٹوک مؤقف
وینس نے کہا کہ اس وقت تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نیوکلیئر شرائط پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صدر واقعی ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران پر جوہری اور میزائل پروگراموں کی نگرانی کا الزام عائد کرتے ہیں جو خطے میں اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں جب کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ مذاکرات جاری رہیں گے اور انہوں نے اس بات پر خوش امیدی کا اظہار کیا کہ کامیاب معاہدہ عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات جاری رکھیں گے اور اس کو حقیقت بنانے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہ دنیا کے لیے، ہمارے ملک کے لیے، اور سب کے لیے بہت اچھا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس کے لیے لڑتے رہیں گے۔
ٹرمپ نے منگل کو اس بات پر خوشی کا اظہار کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے اور یہ بات چیت پاکستان میں اگلے 2 دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی
وینس نے ایران اور امریکا کے درمیان بہت زیادہ عدم اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس مسئلے کو راتوں رات حل نہیں کر سکتے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم جن لوگوں کے ساتھ بات کر رہے ہیں وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیںب اور مجھے معلوم ہے کہ امریکی صدر نے ہمیں کہا کہ ہم اچھی نیت سے مذاکرات کریں یہی ہم نے کیا ہے اور یہی ہم کرتے رہیں گے۔
جے ڈی وینس کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف
دریں اثنا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے دونوں رہنماؤں کو غیر معمولی میزبان اور ریاستی حکمت عملی کے حامل قرار دیا اور کہا کہ مجھے فیلڈ مارشل آصف منیر اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو بہت سراہنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این
ان کا کہنا تھا کہ دونوں غیر معمولی میزبان تھے اور انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے بعد ہونے والے مذاکرات میں مدد فراہم کرنے میں حقیقی ریاستی حکمت عملی دکھائی۔













