بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے چیف پروسیکیوٹر امین الاسلام نے دعویٰ کیا ہے کہ 2013 کے شاپلا چھتر واقعہ کی تحقیقات میں سابق انسپکٹر جنرل پولیس سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف شواہد مل گئے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پروسیکیوٹر نے مذکورہ آپریشن کو سنگین قتلِ عام قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مکمل تحقیقاتی رپورٹ آئندہ 10 سے 15 دن کے اندر پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد سینئر افسران زیرِ تفتیش ہیں، تاہم ابھی ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قوانین میں تاخیر پر تشویش
امین الاسلام نے واضح کیا کہ جو بھی اس واقعے میں ملوث پایا گیا، چاہے وہ پولیس، ریپڈ ایکشن بٹالین، فوج یا سول انتظامیہ سے تعلق رکھتا ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللہ المامون کو اپنے دورِ ملازمت کے دوران کیے گئے دیگر اقدامات، بشمول مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں، کے حوالے سے بھی علیحدہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس خدشے کو مسترد کرتے ہوئے کہ ایک ہی شخص پر بار بار مقدمہ چلایا جا رہا ہے، وضاحت پیش کی کہ مختلف واقعات کے لیے الگ الگ قانونی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
مزید پڑھیں: مالی بدانتظامی کے ذمہ داروں کو ریلیف؟ بنگلہ دیش میں نئی بحث
یاد رہے کہ ماضی میں اسی ٹریبونل نے انسانیت کے خلاف جرائم کے ایک مقدمے میں چوہدری عبداللہ المامون کو 5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
جبکہ اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال کو سزائے موت دی گئی تھی۔
2013 میں ڈھاکا میں پیش آنے والا شاپلا چھتر واقعہ آج بھی بنگلہ دیش کی حالیہ تاریخ کے متنازع اور حساس ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا سابق لیفٹیننٹ جنرل قتل اور دیگر مقدمات میں گرفتار
شاپلا اسکوائر کے احتجاج، جنہیں محاصرۂ ڈھاکا، آپریشن شاپلا اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن فلیش آؤٹ بھی کہا جاتا ہے، 5 اور 6 مئی 2013 کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے مرکزی مالیاتی علاقے موتی جھیل میں واقع شاپلا اسکوائر پر ہونے والے مظاہروں اور اس کے بعد مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات پر مشتمل تھے۔
یہ احتجاج اسلامی دباؤ گروپ حفاظتِ اسلام کی جانب سے منظم کیے گئے تھے، جو توہینِ مذہب سے متعلق قانون کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے تھے۔
حکومت نے ان مظاہروں کے جواب میں پولیس، ریپڈ ایکشن بٹالین اور نیم فوجی فورس بارڈر گارڈ بنگلہ دیش پر مشتمل مشترکہ کارروائی کے ذریعے مظاہرین کو شاپلا اسکوائر سے بزور طاقت منتشر کردیا تھا، تاہم اس آپریشن میں بڑی تعداد میں مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔














