ویرات کوہلی کا جرمن وی لاگر کی پوسٹ پر لائک، پھر ریموو، خاتون انفلوئنسر کا ردعمل سامنے آگیا

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمن انفلوئنسر لزلاز نے ویرات کوہلی سے منسوب حالیہ سوشل میڈیا واقعے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس صورتحال پر کھلاڑی کے لیے افسوس ہوا۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ویرات کوہلی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے جرمن انفلوئنسرکی ایک تصویر کو مبینہ طور پر لائیک کیا گیا جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا۔ بعد ازاں رپورٹ کیا گیا کہ یہ لائیک ہٹا دیا گیا جس نے مزید بحث کو جنم دیا۔

لزلاز نے اس واقعہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابتدا میں اس توجہ پر خوش ہوئیں مگر بعد میں اس بات پر حیران رہ گئیں کہ ایک معمولی سوشل میڈیا ایکشن اتنا بڑا معاملہ بن گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے حقیقت میں ان کے لیے افسوس محسوس کیا۔ میں خوش تھی کہ انہوں نے میری پوسٹ کو لائیک کیا لیکن جب بعد میں وہ لائیک ہٹا دیا گیا تو مجھے ان کے لیے برا لگا۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ اتنی بڑی خبر کیسے بن گئی شاید یہ ان کی نیت نہیں تھی لیکن پھر بھی میں ان کی سپورٹ کی قدر کرتی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی کا جرمن وی لاگر کی پوسٹ پر لائک، پھر ریموو، یہ خاتون کون ہیں؟

انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں اس واقعے کا علم بھی اس وقت ہوا جب یہ خبر میڈیا پر آ چکی تھی اور متعدد افراد نے انہیں اس حوالے سے پیغامات بھیجے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ویرات کوہلی کی سوشل میڈیا سرگرمی خبروں کی زینت بنی ہو۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کے اکاؤنٹ سے اداکارہ و انفلوئنسر اوینیٹ کور کی ایک تصویر کو مبینہ لائیک کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

بعد ازاں ویرات کوہلی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک تکنیکی یا الگورتھم غلطی تھی اور اس میں کسی قسم کا ارادی عمل شامل نہیں تھا لہٰذا غیر ضروری قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

اسحاق ڈار کی آسٹریلین ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟