سابق مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہے کہ مستقبل میں علاقائی اور عالمی تجارت کا رخ پاکستان کی جانب ہوگا، جبکہ بلوچستان اور گوادر کی اسٹریٹجک اور معاشی اہمیت مزید بڑھتی جا رہی ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک تقریب میں لاہور چیمبر اور گوادر جمخانہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے، جس میں کاروباری اور معاشی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی تجارت متاثر: پاکستان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کو طویل عرصے تک ایک بفر زون کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ جاری تنازعات نے بھی ملک پر براہ راست اثرات مرتب کیے۔ ان کے مطابق بھارت کو وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے پاکستان کے علاوہ کوئی متبادل راستہ میسر نہیں، اور آئندہ دور میں علاقائی و عالمی تجارت کا مرکز پاکستان بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ گوادر پورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے: آبنائے ہرمز پر امریکی شکنجہ: ایران کی سمندری تجارت بند، خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت متاثر
ان کے مطابق بلوچستان اور گوادر پاکستان کو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، چین اور یورپ سے جوڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں تجارتی اور توانائی کے بڑے راستے پاکستان سے گزریں گے، جس سے ملک کی اسٹریٹجک اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا۔














