بنگلہ دیش کے ریڈی میڈ گارمینٹس کی ایکسپورٹ معطل

منگل 21 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بنگلہ دیش کی 18 ممالک کو تیار ملبوسات (گارمنٹس) کی برآمدات تقریباً معطل ہو گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

برآمد کنندگان کے مطابق فضائی اور بحری راستوں میں خلل اور علاقائی خریداروں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث متعدد برانڈز نے آرڈرز منسوخ یا مؤخر کر دیے ہیں۔ بنگلہ دیش کا گارمنٹس سیکٹر جو ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے اس صورتحال سے شدید متاثر ہوا ہے۔

اگرچہ مشرق وسطیٰ بنگلہ دیش کی مجموعی برآمدات کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے تاہم حالیہ عرصے میں یہ خطہ، خاص طور پر خلیجی ممالک، ایک ابھرتی ہوئی منڈی کے طور پر سامنے آیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ارب ڈالر سالانہ کی اس منڈی میں اب شدید غیر یقینی پیدا ہو گئی ہے۔

بنگلہ دیش کے ایکسپورٹ پروموشن بیورو کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں مشرقِ وسطیٰ کو برآمدات 663 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ متحدہ عرب امارات 281 ملین ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ سعودی عرب 251 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا۔ کویت نے تقریباً 20 ملین ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کیں جبکہ ایران کو برآمدات بحران سے قبل 8 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

بنگلہ دیش اس خطے کو زیادہ تر گارمنٹس برآمد کرتا ہے جن میں روایتی لباس جیسے جبے، عمامے اور شیروانیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شرٹس، پتلون، سوٹس اور بلیزرز بھی بھیجے جاتے ہیں۔ زرعی اجناس، پھل، سبزیاں اور چمڑے کی مصنوعات بھی مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں میں برآمد کی جاتی ہیں۔

89 فیصد برآمدات ریڈی میڈ گارمینٹس

پالیسی ایکسچینج بنگلہ دیش کے چیئرمین و سی ای او ڈاکٹر مسرور ریاض کے مطابق گزشتہ مالی سال میں اس خطے کو بنگلہ دیش کی تقریباً 89 فیصد برآمدات تیار ملبوسات پر مشتمل تھیں جو زیادہ تر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھیجی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ منڈی تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ کچھ عرصے کے لیے پروازیں معطل رہیں بحری ترسیل شدید متاثر ہے اور تقریباً ایک ارب ڈالر کی نئی برآمدی منڈی مؤثر طریقے سے کام نہیں کر رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کشیدگی جلد کم بھی ہو جائے تو بحالی میں وقت لگے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے صارفین کی قوت خرید مضبوط ہے اور وہ اعلیٰ معیار کے ملبوسات کی طلب رکھتے ہیں لیکن تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان، خاص طور پر سعودی عرب اور کویت جیسے ممالک میں، اقتصادی بحالی کو سست کر دے گا۔

صنعتی رہنماؤں نے آرڈرز کی منسوخی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ انانتا گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور بی جی ایم ای اے کے سینیئر نائب صدر، انعام الحق خان کے مطابق ان کی کمپنی کی اس خطے کو برآمدات مکمل طور پر رک چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خریداروں نے فی الحال ترسیل روکنے کی ہدایت دی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ منڈیاں کب دوبارہ کھلیں گی۔

مزید پڑھیں: بھارت کا بنگلہ دیش سے غیرقانونی آمدورفت روکنے کے لیے سرحدی علاقوں میں سانپ اور مگرمچھ چھوڑنے پر غور

بنگلہ دیش کے گارمنٹس مینوفیکچررز یورپ اور شمالی امریکا کی روایتی منڈیوں سے ہٹ کر تنوع لانے کی کوشش کر رہے تھے جس میں مشرق وسطیٰ کو ایک اہم نئی منزل سمجھا جا رہا تھا۔ موجودہ بحران کو ان کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

اسلام آباد امن مذاکرات: پاکستان ایرانی وفد کی شرکت کی تصدیق کا منتظر ہے، عطا تارڑ

سعودی عرب کا پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ

مائیکل جیکسن کی زندگی کے چند حیرت انگیز حقائق کیا ہیں؟

امریکی فوجی اڈے خلیجی ممالک کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی، کچھ بڑا ہونے والا ہے، ٹرمپ کی ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش

لائیوامریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور: اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، پاکستان نے جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کردی

کالم / تجزیہ

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ

اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

ایک اور ایک گیارہ سے نو دو گیارہ