دنیا کے معروف ترین یوٹیوبر مسٹر بیسٹ، جن کا اصل نام جمی ڈونلڈسن ہے، ایک بار پھر قانونی شکنجے میں پھنس گئے ہیں۔ ان کی میڈیا کمپنی ‘بیسٹ انڈسٹریز’ کی ایک سابقہ اعلیٰ عہدیدار لورین ماورومیٹس نے کمپنی کے خلاف جنسی ہراسانی اور کام کی جگہ پر صنفی امتیاز برتنے کے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کروا دیا ہے۔
سال 2022 میں کمپنی کے سوشل میڈیا شعبے کی سربراہ کے طور پر شامل ہونے والی خاتون کا دعویٰ ہے کہ ادارے میں خواتین ملازمین کو ہراساں کرنا ایک معمول بن چکا تھا اور اعلیٰ حکام ایسی شکایات پر ایک کان دھرنے کو تیار نہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اب ہم جیسوں کا کیا بنے گا‘، معروف یوٹیوبر مسٹر بیسٹ اے آئی سے خوفزدہ
عدالتی دستاویزات میں لورین نے انکشاف کیا ہے کہ جب انہوں نے کام کے غیرمحفوظ ماحول اور بنیادی حقوق کی عدم فراہمی پر آواز اٹھائی تو انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیمز وارن پر الزام لگایا ہے کہ وہ انہیں انفرادی ملاقاتوں کے لیے اپنے گھر بلاتے تھے اور ان کے لباس پر نامناسب تبصرے کرتے تھے۔
ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے پوچھا کہ مسٹر بیسٹ ان کے ساتھ کام کیوں نہیں کرتے، تو سی ای او نے جواب دیا کہ ان کی خوبصورتی اور ظاہری شخصیت جمی پر ایک خاص جنسی اثر ڈالتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں مسٹر بیسٹ کی پہلی ویڈیو نے ریکارڈ توڑ دیا، ریاض سیزن میں عالمی توجہ کا مرکز
مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب لورین نے ایک کلائنٹ کی جانب سے ہراسانی کی شکایت کی تو اسے سنجیدہ لینے کے بجائے یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ انہیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے۔
مزید برآں، خاتون کو حاملہ ہونے کی چھٹیوں سے واپسی کے محض3 ہفتے بعد نوکری سے نکال دیا گیا۔ لورین نے اس برتاؤ کی وجہ سے ہونے والی ذہنی اذیت اور تذلیل کے بدلے ہرجانے اور واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پرھیں: مسٹر بیسٹ کے یوٹیوب پر 400 ملین سبسکرائبرز، منفرد پلے بٹن مل گیا
دوسری جانب مسٹر بیسٹ کی کمپنی کے ترجمان نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض شہرت حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ خاتون کو کسی امتیازی سلوک کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹیم کی تنظیم نو کے باعث نکالا گیا تھا۔
یاد رہے کہ مسٹر بیسٹ پہلے ہی اپنے ایک شو کے شرکا کی جانب سے کیے گئے استحصال اور نامناسب سلوک کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، اور یہ تازہ ترین الزامات ان کی عوامی ساکھ کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔














