وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ہفتے کے روز کشمیر کا دورہ کرکے سیاسی جلسے سے خطاب کریں گے جبکہ مئی کے پہلے ہفتے میں وہ لاہور بھی جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے سیاسی سرگرمیوں کا اعلان تو کیا لیکن اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی ان حالات میں کہیں نظر نہیں آ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو 3 سالوں سے مسلسل دیوار سے لگایا جارہا ہے، سہیل آفریدی
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں اور جلسے کرنے کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا تھا اور پارٹی کو تمام سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ان سے مشاورت کرنے اور ان کے ذریعے فیصلے کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس احتجاج اور جلسوں کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے وہ اس پر عمل کریں گے۔ تاہم کچھ عرصے سے سہیل آفریدی نے انہیں بائی پاس کرتے ہوئے بغیر مشاورت احتجاج اور جلسے جلوس شروع کر دیے ہیں جس پر محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
پی ٹی آئی اور محمود خان میں دوری
پی ٹی آئی کے کچھ باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ اس وقت محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں جن کی بڑی وجہ عمران خان کے لیے احتجاج، جلسوں اور اسمبلی میں مؤثر آواز نہ اٹھانے کے شکوے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے نوجوان گروپ، جس کی قیادت سہیل آفریدی کر رہے ہیں، محمود خان اچکزئی سے زیادہ خوش نہیں ہیں اور ان پر حکومتی حمایت کی سیاست کا الزام لگاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری، سیکیورٹی فورسز کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
ذرائع کہتے ہیں کہ پارٹی کی اندرونی میٹنگز میں محمود خان پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ ہم نے ان کو اپوزیشن لیڈر بنایا لیکن انہوں نے اب تک کیا کیا ہے؟
پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ پارٹی ورکرز عمران خان کی رہائی کے لیے قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ احتجاج کا اختیار محمود خان اچکزئی کے پاس ہے۔
بغیر مشاورت راولپنڈی جلسے کا اعلان
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے 9 اپریل کو راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کیا تھا جس کے لیے محمود خان اچکزئی سے مشاورت نہیں کی گئی۔ محمود خان اچکزئی نے خود بھی کہا تھا کہ جلسے کے حوالے سے ان سے مشاورت نہیں ہوئی اور انہوں نے جلسے میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اسلام آباد میں ایران امریکا امن مذاکرات کے باعث جلسہ ملتوی ہو گیا تھا اور اس کی جگہ 19 اپریل کو مردان میں جلسہ ہوا جس میں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس اور دیگر اتحادی رہنماؤں نے شرکت نہیں کی۔
بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ مردان جلسے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کشمیر اور لاہور کے دوروں کا اعلان کر دیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق 25 اپریل کو لال چوک مظفرآباد میں جلسہ بھی کیا جائے گا جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پارٹی کے مطابق یہ دورہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اس کے لیے ہیلی کاپٹر کا خرچ بھی وزیراعلیٰ نے پارٹی فنڈ سے ادا کیا ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ دورہ عمران خان کی رہائی مہم کا حصہ ہے تاہم اس کے لیے بھی محمود خان اچکزئی سے مشاورت نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: کال دوں تو کوئی نہیں روک سکتا،مگر تصادم کی سیاست نہیں چاہتے، سہیل آفریدی
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ مئی کے پہلے ہفتے میں لاہور بھی جائیں گے اور مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم اس کا اعلان بھی ابھی تک محمود خان اچکزئی سے مشاورت کے بغیر کیا گیا ہے۔
کیا محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی سے ناراض ہیں؟
کچھ ذرائع بتاتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کے درمیان دوریاں پیدا ہو گئی ہیں اور خاص طور پر سہیل آفریدی کے آنے کے بعد ان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محمود خان مزاحمتی سیاست کے مخالف ہیں اور پارلیمان میں جدوجہد کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی نوجوان قیادت مارچ اور دھرنوں کی سیاست کے حق میں ہے جس کے باعث اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے اب زیادہ تر معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں اور وہ ملک گیر تحریک شروع کرنے کے حق میں ہیں، جس کے لیے وہ جلسے جلوس کرنا چاہتے ہیں۔
سہیل آفریدی کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ ان پر پارٹی اور ورکرز کا شدید دباؤ ہے اور ورکرز میں ان کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو رہا ہے جس سے وہ پریشان ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کے پی ہاؤس کا دھرنا پارلیمنٹ منتقل کرنے کا پروگرام، محمود اچکزئی نے سہیل آفریدی کو اپنے پاس بلا لیا
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی پورے ملک میں عمران خان کی رہائی کی تحریک کے حق میں ہیں اور اس کے لیے تیاری بھی شروع کر دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ احتجاج اور جلسوں کے بارے میں محمود خان اچکزئی سے مشاورت ضروری ہے۔
پی ٹی آئی محمود خان اچکزئی سے اختلافات اور دوریوں کی تردید کرتی ہے۔ پارٹی کے مطابق عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اختیار دیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے اسلام آباد میں اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اختیار دیا ہے اور ان سے مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ مردان جلسے میں محمود خان اچکزئی کی عدم شرکت پر بیرسٹر گوہر نے وزیراعلیٰ سے بات کی تھی اور انہیں محمود خان اچکزئی کو اعتماد میں لینے اور مشاورت کرنے کی ہدایت کی تھی۔
صوبائی وزیر اور سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی مینا خان آفریدی نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا تھا کہ لاہور اور کشمیر کے جلسوں کے بارے میں مشاورت کی جائے گی اور عمران خان نے خود ہدایت دی ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے مشاورت کے دعوؤں کے باوجود محمود خان اچکزئی کشمیر جلسے میں شرکت نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس جلسے میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنما شرکت کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی تمام سرگرمیاں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے کرنا چاہتے ہیں لیکن پی ٹی آئی اس سے بھی اختلاف کرتی ہے۔
مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟
وی نیوز نے اس حوالے سے محمود خان اچکزئی کا مؤقف جاننے کی کوشش کی لیکن ان سے اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔













