بنگلہ دیش حکومت نے کہا ہے کہ جاری سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (ایس ایس سی) امتحانات کے دوران پرچہ لیکس کو روکنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر لیکس سے متعلق افواہوں پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کی حساس تنصیبات پر حملوں کا خدشہ، ملک بھر میں سیکیورٹی الرٹ جاری
وزیرِاعظم کے مشیر برائے تعلیم و متعلقہ امور مہدی امین نے اتوار کے روز فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ حکام امتحانی پرچوں کی ترسیل کے عمل کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سائبر نگرانی اور ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر امتحانی بدعنوانی میں ملوث گروہوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
مشیر کے مطابق ایک مبینہ فراڈ نیٹ ورک کے چار افراد کو کاؤنٹر ٹیررازم اینڈ ٹرانس نیشنل کرائم یونٹ نے گرفتار کیا ہے، جو طلبہ کو پیسے کے عوض پرچہ لیک ہونے کا جھانسہ دے رہے تھے۔
حکام کے مطابق یہ گروہ جعلی سوالات آن لائن پھیلاتا، لیکس کی افواہیں پھیلاتا اور طلبہ و والدین میں خوف و ہراس پیدا کرتا تھا۔

ڈھاکا ایجوکیشن بورڈ نے بھی طلبہ، والدین اور عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے پرچہ لیکس سے متعلق گمراہ کن دعوؤں پر یقین نہ کریں۔
مہدی امین نے کہا کہ ایک حالیہ ٹی وی رپورٹ میں پرچہ لیک ہونے کے دعوے کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے، اور یہ معاملہ اصل میں ایک منظم فراڈ ہے نہ کہ امتحانی نظام کی خلاف ورزی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: بھمرا بارڈر کے قریب سونا اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، خاتون گرفتار
انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ بہتر نتائج کے لیے غیر اخلاقی طریقوں سے گریز کریں اور عوام سے اپیل کی کہ معلومات کی تصدیق کے بغیر انہیں آگے شیئر نہ کریں۔
ایس ایس سی امتحانات بنگلہ دیش کے اہم ترین عوامی امتحانات میں شمار ہوتے ہیں، جن میں ہر سال لاکھوں طلبہ ملک بھر سے حصہ لیتے ہیں۔














