فٹبال کے قوانین بنانے والے عالمی ادارے انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی) نے نئی قانون سازی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ورلڈ کپ سمیت بڑے ٹورنامنٹس میں ایسے کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈ دیا جا سکتا ہے جو دوران گفتگو اپنا منہ ڈھانپیں۔
یہ فیصلہ کینیڈا کے شہر وینکوور میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں کیا گیا جہاں فیفا کی جانب سے پیش کردہ دو قانون میں ترامیم منظور ہوئیں۔ ان تبدیلیوں کو مقابلوں کے لیے اختیار کے طور پر لاگو کیا جا سکے گا اور فیفا نے تصدیق کی ہے کہ یہ آئندہ ورلڈ کپ میں نافذ ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئیے: ایران رواں سال امریکا میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے راضی ہوگیا
نئے قانون کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی دوران جھگڑا یا گفتگو اپنا منہ اس انداز میں ڈھانپے کہ اس سے مشکوک یا غلط الفاظ کے استعمال کا تاثر پیدا ہو تو ریفری اپنی صوابدید پر اسے ریڈ کارڈ دکھا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد میدان میں شفافیت اور بدزبانی کے خدشات کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔
اسی طرح ایک اور اہم تبدیلی کے تحت اگر کوئی کھلاڑی میچ کے دوران احتجاجاً میدان چھوڑ دے تو اسے بھی ریڈ کارڈ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ فیصلہ افریقی کپ آف نیشنز کے فائنل میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کیا گیا جہاں مراکش اور سینیگال کے درمیان تنازع کے دوران کھلاڑی میدان سے باہر چلے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: فیفا کا ورلڈ کپ 2026 کے انعامی رقم میں مزید اضافے پر غور
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ اگر کھلاڑی منہ چھپا کر بات کرے تو اس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ غیر مناسب زبان استعمال کر رہا ہے، اس لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔
نئے قوانین کے تحت ٹیم آفیشلز بھی ذمہ دار ہوں گے اگر وہ کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے پر اکسانے میں ملوث پائے جائیں۔ ایسی صورت میں میچ منسوخ کر کے متعلقہ ٹیم کو شکست بھی دی جا سکتی ہے۔














