نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کو واضح طور پر باور کرایا کہ سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستانی عوام اپنی جانوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔
اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لیے سعودی عرب ایک ’نو گو ایریا‘ کی حیثیت رکھتا ہے اور کوئی بھی ملک اس کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کا علما کانفرنس سے خطاب، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے دوران اسرائیل ایران پر حملے کر رہا تھا جبکہ ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران کا مؤقف تھا کہ ان کے حملوں کا ہدف امریکی اڈے ہیں، تاہم پاکستان نے پوری کوشش کی کہ صورتحال مزید خراب نہ ہو اور کشیدگی کو روکا جا سکے۔
Dar underscores Pakistan’s commitment to peace, Muslim unity at Paigham-e-Islam Conference https://t.co/VsSWw05dLd via @World News Pakistan
— World News Pakistan (@WNP_digital) May 6, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کرتے ہوئے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا اور ایران کو بھی واضح پیغام دیا کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور معاہدے دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا اہم سنگِ میل ہیں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران پر حملوں کے بعد پاکستان نے خطے میں جنگ بندی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں اور فریقین کے درمیان سیز فائر کرانے میں کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: یو اے ای کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اسحاق ڈار کی ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سیز فائر مستقل جنگ بندی کی شکل اختیار کرے گا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ کے مفادات کا تحفظ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے اور پاکستان سعودی عرب سمیت تمام اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ اور مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’معرکۂ حق‘ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کامیابی عطا کی اور آج پاکستان اتنا مضبوط ہے کہ کوئی دشمن اس کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔














