امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔
ٹرمپ کا یہ بیان خلیجِ ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے،
یہ بھی پڑھیں: کیا امریکی وفد ایران سے مذاکرات کے لیے دوبارہ پاکستان آرہا ہے؟ صدر ٹرمپ نے بتا دیا
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے 3 امریکی جنگی جہازوں پر حملے کے باوجود جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔
امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ پہل امریکا نے کی تھی۔
🚨🇵🇰 PAKISTAN AURA IS NEXT LEVEL
US President Trump says he suspended Project Freedom because of Pakistan’s leadership Field Marshal and Prime Minister, he says:
“Wonderful leadership of Pakistan asked me not to do it, go for negotiations”
Bad news for Indians continuously. pic.twitter.com/KDbGUFG1Jw
— Zard si Gana (@ZardSi) May 8, 2026
یہ کشیدگی اس نازک جنگ بندی کے لیے خطرہ بن گئی ہے جو 8 اپریل سے نافذ ہے اور جس نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر ہفتوں پرانے حملوں کو روکا تھا۔
ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں حملے کیے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز کو متاثر کیا۔
مزید پڑھیں: ایران کی نئی پیشکش پر ٹرمپ غیر مطمئن، پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے چل رہے ہیں اور تہران معاہدہ کرنے کا زیادہ خواہش مند ہے۔
انہوں نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
‘پاکستان نے ہم سے کہا کہ ہم اس وقت فوجی کارروائی نہ کریں، اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ دیکھیں گے، لیکن مذاکرات کے دوران انہوں نے یہی درخواست کی۔’
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور پاکستان کی طرف سے موصول ہونے والے پیغامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق امید ہے کہ فریقین جلد کسی پائیدار اور پرامن معاہدے تک پہنچ جائیں گے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔













