راولپنڈی کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ یہ کامیابی پاکستان کی قومی وحدت، عزم اور افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے معرکۂ حق کو محض ایک عسکری جھڑپ نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ قرار دیا۔
معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ ایک سال قبل آپریشن بنیان مرصوص کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان، اس کی عوام اور افواج کو ایک بے مثال کامیابی نصیب ہوئی۔
GHQ hosts ceremony marking one year since Marka-e-Haq victory; Ceremony also featuring top military leadership, with CDF Field Marshal Asim Munir participating as chief guest along with Chief of Air Staff Air Chief Marshal Zaheer Ahmed Baber Sidhu and Chief of Naval Staff Admiral… pic.twitter.com/WLkhlncdfq
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 10, 2026
انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب سے 10 مئی تک دشمن نے پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی عزم اور وقار کو آزمانے کی ناکام کوشش کی، جس کا منہ توڑ جواب قومی وحدت اور عسکری طاقت کے ساتھ دیا گیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ معرکۂ حق کوئی روایتی جنگ نہیں تھی بلکہ دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں اللہ کے فضل سے حق غالب آیا اور باطل شکست سے دوچار ہوا۔ انہوں نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل تو مٹنے ہی کے لیے ہوتا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان غیرت مند قوم، جارحیت سے جھکایا نہیں جاسکتا، وزیراعظم کا معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پیغام
انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ بھارت کے گمراہ کن اور جارحانہ رویے کا تسلسل تھا، جس میں ماضی کے مختلف واقعات اور الزامات کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت یہ سمجھتا تھا کہ وہ پاکستان کو عسکری اور سفارتی طور پر تنہا کر دے گا، لیکن اس کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کی افواج نہ پہلے کسی دباؤ سے مرعوب ہوئیں اور نہ آئندہ ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
یاد گار شہداء، جنرل ہیڈ کوارٹرز، راولپنڈی میں یوم معرکہ حق کی پروقار تقریب#BunyanUmMarsooshttps://t.co/Q5juf6MOrY pic.twitter.com/e5BSKP4Nhx
— PTV News (@PTVNewsOfficial) May 10, 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ان تمام شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کے پرچم کی لاج رکھی۔ معرکۂ حق کے تمام شہداء اور ان کے اہلِ خانہ قوم کے لیے قابلِ فخر ہیں، جن کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت اور قوم پر ایک دائمی قرض ہیں۔
اس موقع پر غازیوں کو بھی سلام پیش کیا گیا جنہوں نے میدانِ جنگ میں شجاعت اور بہادری کی وہ تاریخ رقم کی جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ فخر کریں گی۔ کہا گیا کہ ہم اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کا احسان، شہداء کی قربانیوں کو امانت اور اپنی طاقت کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
فیلڈ مارزشل نے اپنے خطاب میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، وفاقی کابینہ، قومی و صوبائی سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کی سیاسی بصیرت اور رہنمائی سے پاکستان کو یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
Chief of Defence Forces Field Marshal Syed Asim Munir, in his address to the Marka-e-Haq victory commemoration ceremony being held at GHQ Rawalpindi, has said Pakistan Armed Forces inflicted a defeat on the enemy beyond its expectations.#MarkaEHaq #AsimMunir… pic.twitter.com/oWUO04vjIf
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 10, 2026
انہوں نے قومی قیادت، تمام حکومتی اداروں اور عوام نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ واضح پیغام دیا کہ ملک کی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی نمائندوں نے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا جبکہ میڈیا، صحافتی برادری اور نوجوانوں نے دشمن کے پروپیگنڈا اور سائبر وارفیئر کو ناکام بنایا۔معرکۂ حق صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر بھی جیتا گیا، جہاں عوام نے غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ جب جنگ کے بادل منڈلائے تو ہر طبقہ فکر نے ’پاکستانیت‘ کے جذبے کے تحت ایک صف میں کھڑے ہو کر دفاع وطن کے لیے کردار ادا کیا۔
جنرل عاصم مینر نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کو اس کے اندازوں سے بڑھ کر جواب دیا۔ بری، بحری اور فضائی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا۔ پاک فضائیہ کی قائدانہ حکمتِ عملی نے فضائی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں جبکہ پاک بحریہ نے سمندری حدود کی مکمل نگرانی اور دفاع کو یقینی بنایا۔ اسی طرح زمینی محاذ پر پاک فوج نے بھرپور تیاری اور جرات کے ساتھ دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنایا، جس سے قومی وحدت اور دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران دشمن کی جارحیت اور اس کی مسلسل غلطیوں نے اس کی کمزوری اور ناکامی کو واضح کر دیا۔ بھارت کو اس جنگ کے نتیجے میں شدید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، جس کا اثر آنے والے وقتوں تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔
اس دوران فتح میزائل سسٹم اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے 26 سے زائد اہم عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور برتری مزید واضح ہو گئی۔
افواجِ پاکستان کی ان صلاحیتوں نے یہ ثابت کیا کہ جب قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ قومی عزم اور دفاعی طاقت کے اظہار کے طور پر کہا گیا کہ ہم وہ قوم ہیں جو تاریخ کو نئے رنگ میں دہراتی ہے اور مشکل حالات میں بھی آگے بڑھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مضبوط دفاعی صلاحیت اور قومی عزم کو دیکھتے ہوئے بھارت نے جنگ بندی کی خواہش مختلف عالمی اور بیرونی قوتوں کے ذریعے ظاہر کی۔ شکست خوردہ بھارت نے امریکا کی سیاسی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے میں امن کے وسیع تر مفاد میں قبول کیا۔

خطاب میں کہا گیا کہ الحمدللہ پاکستان کا دفاع آج کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے۔ پاکستان خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی پر کاربند ہے۔
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی جارحیت نہیں بلکہ امن کے تحفظ پر مبنی ہے، تاہم امن کے قیام کے لیے ہر وقت تیار رہنا ناگزیر ہے۔ دشمن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مستقبل میں کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں اس کے نتائج کہیں زیادہ وسیع، شدید اور دیرپا ہوں گے۔
انہوں نے کہا روایتی جنگیں اب ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں اور مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی، جن میں سائبر، الیکٹرانک وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کلیدی کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کے پیش نظر افواجِ پاکستان کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا گیا ہے، جبکہ اسپیس پروگرام کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ آرمی راکٹ فورس کمانڈ اور جدید ہتھیاروں کے حصول سمیت فتح میزائل سیریز اور نئے جنگی جہازوں کی شمولیت اسی دفاعی وژن کا حصہ ہے۔
خطاب میں کہا گیا کہ پاکستان کی دفاعی تیاری صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں بلکہ اس میں نئی سوچ، جدید تربیت اور تحقیق بھی شامل ہے۔ معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی کامیابی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی سفارتی حیثیت کو بھی مثبت طور پر مضبوط کیا ہے۔
Chief of Defence Forces Field Marshal Syed Asim Munir has said that Pakistan’s story remains incomplete without Kashmir. He was addressing the Marka-e-Haq victory commemoration ceremony at GHQ Rawalpindi.#MarkaEHaq #AsimMunir #PAF #OperationBunyanUmMarsoos #PakistanTV pic.twitter.com/boiMwDUqvI
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 10, 2026
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان کے قومی وقار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی قیادت کو آج عالمی ایوانوں اور بین الاقوامی فورمز میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کے دوست ممالک کی تعداد میں بھی واضح اضافہ ہوا ہے۔
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ جو ممالک ماضی میں پاکستان پر اعتراضات کرتے تھے، وہ آج اس کے قریبی شراکت داروں میں شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی عسکری صلاحیت اور ٹیکنالوجی پر عالمی اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دفاعی برآمدات کو تقویت ملی ہے۔اسی تناظر میں پاکستان اور برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو باہمی دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی مؤثر، ذمہ دارانہ اور غیر جانبدار سفارتکاری کے ذریعے اہم بین الاقوامی امن مذاکرات کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔ عالمی برادری نے پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا ہے جن کے ذریعے جنگ بندی اور مذاکرات کو فروغ دے کر خطے کو بڑی تباہی سے بچایا گیا۔ اس کردار نے پاکستان کو ایک مؤثر امن ساز ریاست کے طور پر عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان غیرت مند قوم، جارحیت سے جھکایا نہیں جاسکتا، وزیراعظم کا معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پیغام
فیلڈ مارشل نے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کی قیادت سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں مثبت کردار ادا کیا، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں جنہوں نے ان مذاکراتی کوششوں میں پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ دوسری جانب روایتی میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت نے اپنی پرانی ریاستی پالیسی کے تحت دہشتگردی کی سرپرستی کا راستہ اپنایا ہے۔ اس نے ایک بار پھر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشتگردی نہ صرف بھارت بلکہ افغانستان کی سرزمین سے بھی جاری ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگرد گروہوں، خصوصاً فتنہ خوارج اور فتنہ بھارت کے عناصر سے پاک کرے اور دہشت گردی کے مراکز کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔
پاکستان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف بہادری سے برسرِپیکار ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے روایتی جنگ میں دشمن کو شکست دی، اسی طرح قومی اتحاد، حکومتی اداروں اور عوام کے عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچائی جائے گی۔

خطاب میں کہا گیا کہ معرکۂ حق کی تاریخی کامیابی کے بعد بھی پاکستان کا عزم ہے کہ حق و انصاف کی جدوجہد ختم نہیں ہوگی اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خطے میں مکمل امن قائم نہیں ہو جاتا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ معزز خواتین و حضرات! آج کے دن ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو ہرگز فراموش نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی ہر قومی داستان کشمیر کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ مسئلۂ کشمیر کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ناگزیر قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی یا سماجی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ زمینی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان ہر فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ اسی طرح پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے لبنان میں جنگ بندی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا جبکہ فلسطین میں امن کے لیے بھی بھرپور حمایت جاری رکھی ہے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے لیے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام تک اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ٹریفک پولیس کے زیراہتمام معرکہ حق کی تقریبات جاری، چیف ٹریفک آفیسر کا قوم کے نام اہم پیغام
خطاب میں کہا گیا کہ بطور قوم ہمیں اپنے دفاع اور سالمیت کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ قوم کا اتحاد ہی وہ قوت ہے جس نے معرکۂ حق میں کامیابی دلائی، اور اسی اتحاد کے ساتھ ہمیں وطن کی تعمیر و ترقی میں بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم امید، عزم اور قربانی کی علامت ہے ،جبکہ افواجِ پاکستان ہر لمحہ وطن کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ قوم کی طاقت اور یکجہتی ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان نے ہر مشکل دور کا سامنا حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ کیا ہے اور آئندہ بھی ترقی کی منازل طے کرتا رہے گا۔ معرکۂ حق اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ حق اور باطل کے مقابلے میں ہمیشہ فتح حق کی ہوتی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر فیلڈ مارشل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، اسے ہر میدان میں کامیابی عطا کرے اور افواجِ پاکستان کو ہمیشہ سربلند رکھے۔ پاکستان زندہ باد، افواجِ پاکستان پائندہ باد۔













