وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ پانڈا بانڈ اجرا کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان مالی تعاون کو ایک ’تاریخی سنگ میل‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا ملک کی معیشت اور عالمی سرمایہ کاری منڈیوں کے ساتھ روابط میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
Finance Minister Highlights Historic Pakistan-China Financial Cooperation at Inaugural Panda Bond Issuance Ceremony
Federal Minister for Finance and Revenue, Senator Muhammad Aurangzeb, today addressed the inaugural Panda Bond Issuance Ceremony held at the Embassy of Pakistan in… pic.twitter.com/S3PiyQOPkC
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) May 15, 2026
بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ اجرا پاکستان اور چین کے درمیان مالی شراکت داری، اعتماد اور ترقی کے مشترکہ وژن کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں بلکہ پاکستان کی مالی ساکھ میں بھی بہتری آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا چینی مارکیٹ میں 30 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز فروخت کرنے کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے طویل تیاری اور چینی ریگولیٹری اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد 7.2 ارب چینی یوآن کا پانڈا بانڈ پروگرام کامیابی سے قائم کیا، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 1.75 ارب یوآن کا اجرا کیا گیا جسے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور یہ مکمل طور پر اوور سبسکرائب ہوا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے پانڈا بانڈ جاری کیا ہے، جو ملکی مالیاتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کے مطابق یہ بانڈ پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اجرا کو چین کے مالیاتی اداروں، بینکوں اور عالمی ترقیاتی اداروں کی معاونت حاصل رہی، جن میں چائنا انٹرنیشنل کیپیٹل کارپوریشن، بینک آف چائنا، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور ہنڈا سیکیورٹیز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی کریڈٹ گارنٹیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ “سسٹین ایبل پانڈا بانڈ” ہے جس سے حاصل ہونے والی رقم پانی، توانائی اور صحت کے شعبوں میں استعمال کی جائے گی، تاکہ پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی تاریخ ساز کامیابی: چین میں پہلی بار ‘پانڈا بانڈ’ جاری، عالمی سرمایہ کاری میں اعتماد میں اضافہ
اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ، مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مالیاتی استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری اور سرکاری اداروں کی تنظیم نو کے اقدامات معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ پاکستان کی وابستگی کو بھی دہرایا اور کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل سے معاشی بنیادیں مزید مستحکم ہوئی ہیں۔
وزیر خزانہ نے چین کی حکومت، وزارت خزانہ، پیپلز بینک آف چائنا اور دیگر اداروں کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان طویل المدتی مالی شراکت داری کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آغاز ہے، اختتام نہیں، اور آنے والے وقتوں میں مالی تعاون مزید گہرا ہوگا۔














