بنگلہ دیش میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خسرہ اور اس سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث مزید 12 بچوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جس کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 451 ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں خسرہ کے بڑھتے کیسز، ملک گیر ویکسینیشن کا آغاز اتوار سے ہوگا
ہفتے کے روز ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسی دوران 1,303 مریض اسپتالوں میں داخل ہوئے کیونکہ حکام وبا کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صحت کے حکام کے مطابق 15 مارچ سے 15 مئی کے درمیان ملک میں خسرہ کے 55,611 مشتبہ کیسز درج کیے گئے جبکہ 7,416 انفیکشنز لیبارٹری میں تصدیق شدہ تھے۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 111 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے۔
مزید پڑھیے: امریکا میں خسرہ کے کیسز میں خطرناک اضافہ، 2 دہائیوں بعد ریکارڈ تعداد رپورٹ
ڈائریکٹوریٹ نے مزید کہا کہ مشتبہ خسرہ کے علامات والے 40,000 سے زائد افراد کو مارچ کے وسط سے اسپتالوں میں داخل کیا گیا جن میں سے 36,000 سے زائد مریض صحت یاب ہونے کے بعد ڈسچارج ہو چکے ہیں۔
حکام نے مزید تصدیق کی کہ تازہ رپورٹنگ کے دوران مشتبہ خسرہ انفیکشنز سے مزید 8 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس سے بچوں میں اس بیماری کے تیزی سے پھیلاؤ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں عوام طبی اخراجات کا 79 فیصد خود ادا کرنے پر مجبور، صحت کا بحران سنگین
بنگلہ دیش کے صحت کے شعبے پر حالیہ ہفتوں میں دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ کئی اضلاع کے اسپتالوں میں خسرہ سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث بچوں کی داخلوں میں اضافہ جاری ہے۔














