پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے دورے کے دوران حکومتِ بلوچستان کی جانب سے شروع کیے گئے 11 بڑے عوامی فلاحی اور صحتِ عامہ کے منصوبوں کا افتتاح کر دیا ہے۔ ان منصوبوں میں صوبے کی پہلی ایئر ایمبولینس سروس اور جدید سہولیات سے آراستہ ٹراما سینٹر بھی شامل ہیں۔
یہ تاریخی منصوبے ملک کے سب سے پسماندہ صوبے میں صحت کے شعبے میں جدید خدمات کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحتِ عامہ کو کوئی مراعت نہیں بلکہ عوام کا بنیادی حق قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کا دورہ کوئٹہ: صحت کے بڑے منصوبوں کا افتتاح، پیپلز ایئر ایمبولینس اور جدید حادثاتی طبی مرکز فعال
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مشن ہر شہری کو مفت اور معیاری علاج اس کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔ ریاست میں ایسا نظام نہیں ہونا چاہیے جہاں وسائل کی کمی کی وجہ سے کوئی شہری علاج سے محروم رہے، اسی لیے پیپلز پارٹی ہمیشہ پبلک سیکٹر پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔
لائیو: کوئٹہ میں ہنگامی طبی امداد، ٹراما کیئر، ماں اور بچے کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات، جدید ڈیجیٹل نظام، ملازمین کی ہیلتھ انشورنس، ٹی بی کے علاج اور دور دراز علاقوں تک فوری طبی رسائی کو مضبوط بنانے سے متعلق شعبہ صحت کے 11 منصوبوں کی افتتاحی تقریب https://t.co/MgvgAZaYuk
— PPP (@MediaCellPPP) May 15, 2026
چیئرمین پی پی پی نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ کی طرز پر بلوچستان میں بھی صحت کا جدید نیٹ ورک دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بلوچستان میں 164 بنیادی صحت مراکز کی بحالی، سرکاری ملازمین کے ہیلتھ انشورنس پروگرام اور حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کی بہتری جیسے اقدامات پر مسرت کا اظہار کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے خاص طور پر بینظیر ایمبولینس سروس اور ایئر ایمبولینس کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں سے مریضوں کی ہنگامی منتقلی بلوچستان کی اہم ضرورت تھی۔ انہوں نے کوئٹہ کے 150 بستروں پر مشتمل جدید ٹراما سینٹر کے پیپر لیس نظام اور وہاں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کے جذبے کی بھی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر سے بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات، آئندہ انتخابات پر تبادلہ خیال
افتتاح کیے گئے دیگر اہم منصوبوں میں باچا خان میموریل اسپتال کے تحت خواتین و بچوں کا علاج، چائلڈ لائف ایمرجنسی سروس کی توسیع، حاملہ خواتین کا ریفرل نظام، 10 ضلعی اسپتالوں میں ٹی بی علاج مراکز اور اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کا پیپلز ویلفیئر پروگرام شامل ہیں۔
بلوچستان میں عوامی صحت کا بڑا اقدام!
روٹین امیونائزیشن (EPI) پروگرام کی مضبوطی کے لیے حکومت کا انقلابی قدم، 304 نئے ویکسی نیٹرز، 72 کمیونٹی موبلائزرز، 32 موبائل وینز اور 304 موٹر سائیکلوں کی فراہمی۔
دور دراز علاقوں تک ویکسین کی رسائی اور بچوں کو بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے ایک… pic.twitter.com/Y8dtz8W7Qq— PPP (@MediaCellPPP) May 15, 2026
بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ کی طرح بلوچستان میں بھی امراضِ قلب کے علاج کے لیے ایس آئی سی وی ڈی (SICVD) جیسا نیٹ ورک بنایا جائے گا، جس کے لیے دونوں صوبے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو صرف کام کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود اگر محنت اور اتحاد سے کام لیا گیا تو ان قوتوں کو شکست ہوگی جو ترقی نہیں دیکھنا چاہتیں۔ دورے کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے چیئرمین کو ترقیاتی کاموں پر بریفنگ دی جبکہ مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری بھی ان کے ہمراہ تھیں۔














