’ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود کہ شی جن پنگ ایران کے معاملے پر ان کے مؤقف کے حامی ہیں چین نے اپنی ‘حدود’ واضح کر دیں‘۔
’چین ہرمز کھولنے میں مدد دے گا اور ایران کو اسلحہ بھی فراہم نہیں کرے گا‘، صدر ٹرمپ
یہ شہ سرخیاں پاکستان کے دو اخبارات کی ہیں۔ اس وقت جب خلیج فارس میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے، پوری دنیا کے میڈیا کی نظریں امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چین پر مرکوز ہیں۔
سنہ 2009 میں امریکی صدر بارک اوباما نے چین کا دورہ کیا تھا اس وقت بیجنگ میں ان کا پرتپاک استقبال ہوا تھا جو غالباً کسی اور امریکی صدر کو نہ مل سکا تھاـ جبکہ حالیہ ٹرمپ کے سفارتی دورے میں سیاست دان سے زیادہ امریکا کی معیشت، دفاع کے ماہرین اور جدید ٹیکنالوجی کی حامل کمپنیوں کے سربراہان شامل ہیں۔
ٹرمپ اور شی جی پنگ ملاقات میں جہاں امریکا و اسرائیل کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش، جو اس سے پہلے آزادانہ طور پر کھلی تھی، پر ہونے والے مذاکرات پر عالمی میڈیا کی نظر ہے وہیں ان دونوں سربراہان مملکت کی باڈی لینگوج نے بھی کئی راز سے پردے اٹھایا ہےـ آج کا چین سنہ 2009 کی ابھرتی ہوئی معیشت کا حامل ملک نہیں بلکہ آج وہ ایک پراعتماد، مضبوط معیشت ہونے کے ساتھ جدید جنگی اور غیر جنگی ٹیکنالوجی میں ایک خود کفیل ملک بھی بن چکا ہے۔ دونوں سربراہان مملکت کے مصافحے سے لے کر دوران گفتگو الفاظ کے چناؤ تک میں شی جی پنگ امریکی صدر پر حاوی نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جعفر پناہی کی آف سائیڈ کھلاڑی
امریکا کے صدر آج اسی چین سے مدد مانگنے وہاں خود پہنچے ہیں۔ جس کے بارے میں مغربی میڈیا چاہے وہ الیکٹرونک ہو یا پرنٹ، نیوز ہو یا انٹرٹینمنٹ۔ پچھلی کئی دہائیوں سے ایک خاص پروپیگینڈا کر رہا ہےـ مثلاً چین کو ایک جابر کمیونسٹ ریاست کہنا، چینی معیشت کو مصنوعی چمک اور بلبلے سے تشبیہ دینا اور چینی عوام اور نوجوانوں کو فریب و وہم کا قیدی گرداننا مغربی میڈیا کے ایجنڈے میں شامل رہا ہےـ دی اکانومسٹ اور ٹائم جیسے میگزین جو اعلیٰ صحافتی اقدار کا علمبردار سمجھے جاتے ہیں، ان کے سینکڑوں شماروں کی کور اسٹوری اسی پروپیگینڈے کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔
ہماری نسل کے لوگوں کو یاد ہوگا کہ سرد جنگ کے زمانے میں ہالی ووڈ نے بے شمار فلمیں بنائیں جن میں امریکا اور سوویت یونین کے درمیان نظریاتی، فوجی اور جاسوسی کشمکش دکھائی گئی۔ ان فلموں میں کمیونزم کا خوف، ایٹمی جنگ اور عالمی سیاست جیسے بڑے موضوعات کو ایک خاص پروپیگنڈا کے ذریعے فروغ دیا گیا۔
میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا لوگوں کی رائے، جذبات یا رویّے کسی خاص سیاسی، معاشی یا نظریاتی مقصد کی طرف موڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہےـ پروپیگنڈا میں آدھا سچ آدھاجھوٹ، منتخب معلومات، جذباتی زبان، یا مسلسل تکرار استعمال کی جاتی ہے۔
پروپیگنڈا کا مقصد خاص بیانیے کو مضبوط کرنا، دشمن کا خوف پیدا کرنا، کسی بات کو بار بار دہرانا یہاں تک کہ لوگ اسے ’حقیقت‘ سمجھ لیں یا کسی فرد، گروہ یا ملک کو مکمل ’برائی‘ بنا کر پیش کرنا ہےـ
سرد جنگ کے دوران اس مقصد کے لیے ہالی ووڈ میں بہت سی ایسی فلمیں بنیں جنہیں ’کمیونزم مخالف‘ کہا جاتا ہے۔ ان فلموں میں سوویت یونین، کمیونسٹ نظام، یا ’ریڈ اسکیئر‘ کو خطرے کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔
ایکشن اور جنگی فلمیں جیسے روکی سیریز، ریمبو، فرسٹ بلڈ، انڈیانا جونز جو سرد جنگ کا خالص پاپ کلچر ورژن تھا۔ ایک فلم تھی ریڈ ڈان جو ایک فرضی کہانی پر مبنی تھی جس میں سوویت یونین امریکا پر حملہ کرتا ہے اور امریکی نوجوان مزاحمت کرتے ہیں۔ ٹاپ گن میں اگرچہ سوویت یونین کا نام واضح نہیں لیا گیا مگر پوری فلم میں فضا سرد جنگی عسکری برتری کی ہے۔
’دی ہنٹ فار ریڈ اکتوبر‘ سوویت فوجی نظام اور سرد جنگی تناؤ پر مبنی فلم تھی۔
’دی منچورین کینڈیڈیٹ‘ کمیونسٹ ’برین واشنگ‘ کے خوف پر بنی فلم ہے۔
’انویژن یو ایس اے‘ ایسی ایکشن فلم جس میں کمیونسٹ حملہ آور امریکا میں تباہی پھیلاتے ہیں۔
50 سے 80 کی دہائی تک امریکا میں ریڈ اسکیئر کا ماحول تھا اور اس کو ہوا دینے میں میڈیا نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔
مزید پڑھیے: ہیٹ کرائم یا اسالٹ
ہالی ووڈ میں باقاعدہ ایک ’بلیک لسٹ‘ بنائی گئی تھی۔ جن میں کئی فنکاروں پر کمیونسٹ ہمدرد ہونے کے الزامات لگے۔ چارلی چیپلن ان میں سرفہرست ہیں۔
جس طرح سرد جنگ کے دور میں امریکی اور یورپی میڈیا نے سوویت یونین کو ایک خوفناک ہوّا بنا کر نسلوں، قوموں پر ہیبت طاری کی تھی بالکل اسی طرح چین اور ایران کو بھی پچھلے کئی برسوں سے امریکا اور یورپ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ چین کا کمیونزم اور ایرانی ملا رجیم امریکا اور یورپ ہی نہیں دنیا کے لیے بھی سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ اگر میڈیا کی نظر سے ایران، چین کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان ممالک میں صرف موت کا راج ہے، ترقی نام کی کوئی شے نہیں، عوام حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہیں، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر تباہ ہےـ جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہےـ یہ سچ ہے کہ ان کے نظام حکومت میں کئی خرابیاں موجود ہیں لیکن کیا مغربی ممالک اور معاشرے خرابیوں سے مبرّا ہیں؟
کہا جاتا ہے کہ ان دونوں ملکوں میں اظہار رائے کی آزادی نہیں، انسانی حقوق نہیں، خواتین کو آزادی نہیں، جمہوریت نہیں ـ تو جناب امریکا اسرائیل اور مغربی طاقتوں کے گٹھ جوڑ سے عراق، افغانستان، سوڈان، ویت نام، سیریا، لبنان اور غزہ کو برباد کرنے کے بعد اب ان فینسی الفاظ سے جی اکتا چکا ہےـ اگر واقعی دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک کو انسانیت کی اتنی قدر ہوتی تو یہ غزہ، لبنان اور سوڈان میں یہ قتل عام نہ ہو رہا ہوتاـ سچی بات تو یہ ہے کہ جو ملک ایپسٹین فائلز کی مظلوم خواتین کو آج تک انصاف نہ دلا سکا وہ بھلا دوسروں کی کیا خاک مدد کرے گا؟ لیکن میڈیا میں اب ان فائلز کا تذکرہ کم اور ایران کے جوہری ہتھیار، آبنائے ہرمز اور صدر ٹرمپ کی بھونڈی تڑیاں اور دھمکیاں ہی نظر آتی ہیں۔
مزید پڑھیں: مصدق سے مادورو تک
لیکن کل اور آج میں فرق ہے سوشل میڈیا نے دنیا کو بہت آگاہی بخشی ہے یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اسرائیل کے گھناؤنے کردار کے خلاف نفرت اور امریکا کی دنیا کو ہمیشہ جنگ میں جھونکنے والی پالیسیوں پر شدید تنقید اور ملک گیر مظاہرے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ اور یہی انسانیت کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













