لدھیانہ میں ابھرتی ہوئی پنجابی گلوکارہ اندر کور کی لاش نیلون نہر سے برآمد ہونے کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔
پولیس کے مطابق گلوکارہ کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا جبکہ اہلِ خانہ نے اس واقعے کو منصوبہ بند قتل قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
View this post on Instagram
پولیس اور اہلِ خانہ کے مطابق اندر کور 13 مئی کی رات تقریباً 8:30 بجے اپنے گھر سے فورڈ فیگو گاڑی میں گروسری لینے کے لیے نکلی تھیں تاہم اس کے بعد وہ واپس نہ آئیں۔
ان کے بھائی جوتندر سنگھ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ تلاش کے دوران خاندان کو شک ہوا کہ بھلور کے رہائشی سکھوندر سنگھ اس واقعے میں ملوث ہو سکتا ہے جو مبینہ طور پر اندر کور سے زبردستی شادی کا خواہاں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف قتل کیس، ملزم کو موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا
اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ اندر کور نے سکھوندر سنگھ کی شادی کی پیشکش مسترد کی تھی جس کے بعد وہ مبینہ طور پر ان کے خلاف رنجش رکھتا تھا۔ خاندان نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ سکھوندر سنگھ مبینہ طور پر کینیڈا سے پنجاب آیا اور اپنے ساتھی کرمجیت سنگھ کے ہمراہ اندر کور کو اسلحے کے زور پر اغوا کیا، بعد ازاں انہیں قتل کر کے لاش نیلون نہر میں پھینک دی اور فرار ہو کر واپس کینیڈا چلا گیا۔
اہلِ خانہ نے پولیس کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ 15 مئی کو ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں دل دہلا دینے والا واقعہ، شوہر نے بیوی کو قتل کرکے 2 سالہ بیٹے کو جنگل میں چھوڑ دیا
اندر کور پنجابی موسیقی کی دنیا میں ایک ابھرتا ہوا نام تھیں اور وہ اپنی علاقائی گلوکاری اور سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث پہچانی جاتی تھیں۔ ان کے معروف گانوں میں ’سونے دی چڑھی‘، ’جیجا‘، ’سوہنا لگدا‘ اور ’دیسی سرے دا‘ شامل ہیں۔














