سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کم کریں گے تو دبئی اور لندن کی پراپرٹی مارکیٹ میں کمی آ جائےگی اس کے علاوہ اور کوئی فرق نہیں پڑےگا۔
’وی نیوز ایکسکلوسیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگرچہ 18ویں ترمیم ایک مثبت قدم تھا، لیکن اس میں اب بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
مزید پڑھیں: ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم: حکومت کن بڑی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے؟
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد دو تین خاندانوں کی بھلائی ہوئی ہے، پچھلے 20 سالوں میں آپ نے صوبوں کو بہت زیادہ پیسے دے دیے، اور اتنا پیسا مل رہا ہے کہ وہ خرچ ہی نہیں کر پاتے۔
انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اختیارات صرف صوبائی سطح تک محدود نہ رہیں بلکہ انہیں مزید نچلی سطح یعنی ضلعی اور مقامی حکومتوں تک منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم ایک اہم جمہوری پیشرفت تھی جس کے ذریعے وفاق سے اختیارات اور وسائل صوبوں کو منتقل کیے گئے، جس سے مرکز کی اجارہ داری کم ہوئی۔
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ عملی طور پر کئی شعبوں میں اب بھی غیر ضروری مرکزیت موجود ہے، جس کی وجہ سے انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے کہاکہ این ایف سی اور 18ویں ترمیم کا اصل مقصد اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم تھا، لیکن اس کے نامکمل نفاذ کی وجہ سے گورننس کے مسائل برقرار ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگر نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے تو فیصلہ سازی کو نچلی سطح تک لے جانا ہوگا تاکہ مقامی مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔
’حکومت کے اخراجات زیادہ اور محصولات کم ہیں‘
آئندہ بجٹ اور ملکی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت ایک ایسے آئی ایم ایف پروگرام میں ہے جہاں حکومت کے اخراجات زیادہ اور محصولات کم ہیں، اس لیے حکومت ٹیکس بڑھانے پر مجبور ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نئے ٹیکس لگانے اور موجودہ لیویز میں اضافے کی کوشش کرے گی، جبکہ کچھ مالی بوجھ صوبوں پر بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ جب حکومت اخراجات کم نہیں کرتی تو ٹیکس بڑھانا ناگزیر ہو جاتا ہے، اور یہی رجحان اس بجٹ میں بھی نظر آ رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر معاشی ترقی مطلوبہ سطح تک نہ پہنچے تو ٹیکس ہدف حاصل نہیں ہو پاتا، جس کا بوجھ بالآخر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پاکستان میں عام آدمی کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جس کے باعث وہ مزید ٹیکس برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتا اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ برسوں میں پاکستانی عوام کی قوتِ خرید کم ہوئی ہے اور خوراک سمیت بنیادی اشیا کی کھپت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ملک میں بنیادی معاشی اصلاحات کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان میں مسلسل یہی رجحان رہا ہے کہ ہر بجٹ میں ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں لیکن حکومت کے ڈھانچے اور اخراجات میں نمایاں کمی نہیں کی جاتی۔ اگر حکومت واقعی بہتری چاہتی ہے تو اسے اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے۔
انہوں نے برآمدات اور معاشی ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں برآمدات میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ معاشی اشاریے بھی توقعات کے مطابق بہتر نہیں ہو رہے۔
’پیٹرولیم لیوی میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے‘
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے اور حکومت اس سے اہم ریونیو حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔
پراپرٹی سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اس شعبے میں ریگولیشن اور اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ محفوظ رہے اور شفافیت بڑھے۔ پراپرٹی ٹرانسفر اور ویلتھ ٹیکس جیسے معاملات پر بھی غور ہونا چاہیے۔
’توانائی کے شعبے میں غیر متوازن منصوبہ بندی کے باعث مسائل پیدا ہوئے‘
سولر انرجی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ زیادہ تر نجی سرمایہ کاری ہے، تاہم توانائی کے شعبے میں غیر متوازن منصوبہ بندی کے باعث مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے موبائل اور آئی ٹی سیکٹر پر ٹیکسوں کے حوالے سے کہا کہ ان شعبوں میں بوجھ کم کرنے کے بجائے اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر میں انڈسٹری کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: کیا 28ویں آئینی ترمیم بجٹ سے قبل پیش ہونے جارہی ہے؟
’تنخواہ دار طبقے پر بہت زیادہ بوجھ ہے‘
تنخواہ دار طبقے کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ان پر پہلے ہی نسبتاً زیادہ بوجھ ہے اور معمولی ریلیف کی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن عملی طور پر بہت کم تبدیلی آتی ہے۔












