اسرائیلی فوج کے لیے بھارتی اسٹیل کی ترسیل پر یورپی بندرگاہوں میں احتجاج

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اٹلی میں حکام نے بھارت سے اسرائیل بھیجی جانے والی 3 مشتبہ شپمنٹس کو روک لیا ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان میں فوجی معیار کا اسٹیل موجود ہے۔

برطانوی جریدے مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف بائیکاٹ، ڈائیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز (BDS) تحریک اور نو ہاربر فار جینوسائیڈ (NHB) کے کارکنوں کی جانب سے کیا گیا۔

کارکنوں کے مطابق تقریباً 806 ٹن فوجی معیار کے اسٹیل کی یہ کھیپ اسرائیلی فوج کے لیے 17 ہزار 458 تک توپ خانے کے گولے تیار کرنے میں استعمال ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ بے نقاب، بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ

ان کا کہنا ہے کہ یہ سامان بھارتی کمپنی آر ایل اسٹیلز اینڈ انرجی لمیٹڈ، اورنگ آباد سے روانہ کیا گیا تھا اور اسے اسرائیلی دفاعی کمپنی آئی ایم آئی سسٹمز کے رامت ہشارون پلانٹ پہنچایا جانا تھا۔

رپورٹ کے مطابق میڈیٹیرینین شپنگ کمپنی کے ذریعے بھیجی گئی 3 کھیپیں اٹلی کی بندرگاہوں جویہ تاؤرو اور کالیاری میں روکی گئی ہیں، جبکہ مزید 3 شپمنٹس کو کارکنوں کی نگرانی شروع ہونے کے بعد مبینہ طور پر سری لنکا کی جانب موڑ دیا گیا۔

بی ڈی ایس کی فوجی پابندی مہم کی رابطہ کار الہام یاسین نے کے مطابق اب بھارت سے اسرائیل کو فوجی سامان کی ترسیل میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل تک یہ سپلائیز پہنچنے سے روکی جائیں اور بھارتی حکومت سمیت متعلقہ کمپنیوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

این ایچ بی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اسٹیل رامت ہشارون کے اسلحہ ساز پلانٹ بھیجا جا رہا تھا جہاں صرف فوجی پیداوار ہوتی ہے اور کوئی شہری مصنوعات تیار نہیں کی جاتیں۔

کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ اور لبنان کی جنگوں کے دوران خاص طور پر 155 ملی میٹر توپ خانے کے گولوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اسرائیل کے لیے بھارت کا کردار تیزی سے بڑھا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کے اسرائیل سے تعلقات پر عالمی قانونی سوالات اٹھ گئے

انہوں نے شپنگ کمپنیوں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ نگرانی سے بچنے کے لیے راستوں اور منزلوں کو خفیہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپین کی جانب سے ایک بحری جہاز کو لنگر انداز ہونے سے روکنے، یونانی ڈاک ورکرز کے سامان اتارنے سے انکار اور بعد ازاں اطالوی حکام کی جانب سے شپمنٹس روکنے جیسے اقدامات کے بعد یہ معاملہ مزید نمایاں ہوا۔

6 فروری کو اٹلی، یونان، باسک خطے، مراکش اور ترکیہ سمیت 20 سے زائد بندرگاہوں کے ڈاک ورکرز نے ’ڈاک ورکرز جنگ کے لیے کام نہیں کرتے‘ کے عنوان سے مشترکہ احتجاج کیا تھا جس کا مقصد اسلحہ کی ترسیل روکنا اور شہری بندرگاہوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے بچانا تھا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ مودی کی کھلی صف بندی: بھارت خلیج اور ایران کے ساتھ توازن کھو رہا ہے؟

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد یورپ بھر میں عدالتی فیصلوں، قومی پابندیوں، مزدور احتجاجوں اور ریل بلاکیڈز کے ذریعے اسرائیلی فوجی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس کے باوجود متعدد یورپی ممالک اب بھی اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی میں معاون سمجھے جاتے ہیں۔

اسی تناظر میں جرمنی نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے لیے 78 لاکھ ڈالر مالیت کے اسلحہ برآمدات کی منظوری دی، جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی فوجی اڈوں کے ذریعے جرمنی سے درجنوں کارگو طیاروں کے ذریعے گولہ بارود بھی منتقل کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp