پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف میزبان اور اداکارہ نے کہا ہے کہ لائیو ٹی وی پر کام کے دوران ہونے والی غلطیوں نے ہی انہیں سوشل میڈیا کی ’وائرل کوئین‘ بنا دیا۔
ندا یاسر نے حال ہی میں میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے کیریئر، ازدواجی زندگی، والدہ کی یادوں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے لمحات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
پروگرام کے دوران میزبان نے انہیں پاکستانی سوشل میڈیا کی ’میمز کوئین‘ قرار دیا جس پر ندا یاسر نے کہا کہ روزانہ لائیو ٹی وی پر کام کرتے ہوئے غلطیاں ہونا ایک فطری امر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ ان سے بچ نہیں سکتے۔ میں نے ان سب باتوں کو قبول کر لیا ہے۔ اگر میری جگہ کوئی اور بھی روزانہ ٹی وی پر ہوتا تو اس سے بھی غلطیاں ہوتیں۔ اگر میں نے یہ سب جان بوجھ کر کیا ہوتا تو شاید میں وائرل نہ ہوتی۔
ندا یاسر نے اپنے ابتدائی کیریئر کے حوالے سے بتایا کہ ان کی محنت اور لگن کا جذبہ انہیں اپنے والدین سے ورثے میں ملا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی الگ شناخت بنانا چاہتی تھیں اور صرف کسی کی بیٹی، بیوی یا والدہ کے طور پر پہچانی جانا نہیں چاہتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’دھنیا فریج میں اگتا رہتا ہے؟‘، ندا یاسر کے بیان پر صارفین کی ٹرولنگ
اپنے شوہر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے تخلیقی خیالات کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجے میں مشہور سٹ کام وجود میں آیا۔ ندا یاسر کے مطابق یہ ڈرامہ ابتدا میں صرف 13 اقساط پر مشتمل تھا تاہم عوامی پذیرائی کے باعث اسے 108 اقساط تک جاری رکھا گیا۔
گفتگو کے دوران ندا یاسر اپنی مرحوم والدہ کو یاد کرتے ہوئے جذباتی بھی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے مشکل حالات میں جس محبت اور قربانی کے ساتھ خاندان کی پرورش کی اس کا احساس انہیں وقت گزرنے کے ساتھ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ندا یاسر نے اپنے بیٹے بالاج کو گندی ویڈیوز کیوں بھیجیں؟حیران کن انکشاف
ازدواجی زندگی کے حوالے سے ندا یاسر نے کہا کہ اب وہ ذاتی فیصلوں میں اپنے شوہر کی رائے کو اہمیت دیتی ہیں۔ مالی معاملات پر مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ان کے پیسے میرے پیسے ہیں اور میرے پیسے بھی میرے ہی پیسے ہیں‘۔
ندا یاسر نے کہا کہ انہیں اپنے شوہر سے اجازت لینے میں ابتدا میں کافی مشکل پیش آئی، کیونکہ انہیں ہر بات کے لیے اجازت لینا پڑتی تھی، جیسے کیا پہننا ہے یا کیا کرنا ہے۔ ان کے مطابق، انہوں نے اپنے گھر میں ایسا ماحول نہیں دیکھا تھا۔ ان کی والدہ کبھی اپنے والد سے کسی چیز کی باقاعدہ اجازت نہیں لیتیں اور نہ ہی ان کے والد والدہ پر زیادہ پابندیاں لگاتے تھے۔ اس لیے ان کے لیے یہ رویہ نیا تھا کہ انہیں ہر معاملے میں اجازت لینا پڑتی ہے، اور ان کے مطابق آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔














