بھارت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے نوجوانوں سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ایک طنزیہ سیاسی تحریک سامنے آگئی، جس نے چند روز میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کرلی۔
مزید پڑھیں:اسرائیلی فوج کے لیے بھارتی اسٹیل کی ترسیل پر یورپی بندرگاہوں میں احتجاج
چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران کہا تھا کہ کچھ نوجوان ’کاکروچ‘ کی طرح ہیں، جنہیں روزگار نہیں ملتا، پھر وہ سماجی ذرائع ابلاغ، صحافت یا سرگرم کارکن بن کر نظام پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کی جانب تھا، نہ کہ تمام نوجوانوں کی طرف۔
View this post on Instagram
تاہم ان ریمارکس پر بالخصوص نوجوان نسل میں شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی تقسیم پہلے ہی بڑے مسائل سمجھے جا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں 30 سالہ ابھیجیت ڈپکے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا: ’اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو؟‘ بعد ازاں انہوں نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ویب سائٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ کے صفحات قائم کر دیے۔
The current politics of India has very little to offer GenZ beyond distractions, division, and empty promises.
Why wouldn’t the GenZ be frustrated? pic.twitter.com/IPFmSPmu8d
— Cockroach Janta Party (@CJP_2029) May 20, 2026
رپورٹ کے مطابق 3 روز میں اس تحریک کے لاکھوں حمایتی سامنے آئے، جبکہ ہزاروں افراد نے رکنیت فارم بھی پُر کیے۔ اس طنزیہ جماعت کا منشور نوجوانوں کی بے روزگاری، حکومتی طرزِ سیاست، ذرائع ابلاغ کے کردار اور عدالتی تقرریوں جیسے معاملات پر طنزیہ انداز میں تنقید کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:مودی کی مہم برائے کفایت شعاری الٹی پڑگئی، روپیہ گرگیا، مارکیٹ میں شدید مندی
ابھیجیت ڈپکے کا کہنا ہے کہ بھارت میں لوگ طویل عرصے سے خاموش تھے، مگر اب نوجوان سوال اٹھا رہے ہیں اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔














