پاکستان نے تقریباً 2 دہائیوں کے طویل تعطل کے بعد آف شور توانائی کے شعبے کو دوبارہ فعال کرنے کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے ’آف شور بڈ راؤنڈ 2025‘ کے تحت 23 آف شور بلاکس کے لیے پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں اور ایکسپلوریشن لائسنس کی منظوری دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ان معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ یہ تمام بلاکس سندھ اور بلوچستان کے ساحلی پانیوں سے متصل انڈس اور مکران کے آف شور بیسنز میں واقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرستان میں گیس و تیل کے نئے ذخائر دریافت
اس بڈ راؤنڈ کے دوران پاکستان کے تقریباً 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر کے آف شور علاقے کے لیے بولیاں موصول ہوئیں۔ ان میں سے 2 بلاکس ’آف شور ڈیپ سی‘ اور ’آف شور ڈیپ ایف‘ کے معاہدے گزشتہ سال دسمبر میں وزیر اعظم ہاؤس میں طے پاچکے تھے۔
گزشتہ روز بقیہ 21 بلاکس کے معاہدوں پر بھی دستخط کردیے گئے ہیں، جس کے بعد اس پورے منصوبے کا معاہداتی ڈھانچہ مکمل ہوگیا ہے۔ وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اس پیشرفت کو ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں سے آف شور تلاش کے کام کو نئی زندگی ملے گی اور درآمدی ایندھن پر ملکی انحصار کم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے بعد سے اب تک ملکی سمندری حدود میں صرف 18 تلاشی کنویں کھودے گئے ہیں، جو کہ ہماری حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا، کوہاٹ میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے شفاف اور سرمایہ کار دوست قوانین کے ذریعے پاکستان کو ایک پرکشش مارکیٹ بنایا ہے۔ اس مقصد کے لیے نئے آف شور پیٹرولیم رولز اور ماڈل پروڈکشن شیئرنگ معاہدے متعارف کروائے گئے ہیں تاکہ بین الاقوامی اعتماد بحال ہوسکے۔
اس پورے منصوبے میں ’ماڑی انرجی‘ سب سے متحرک کمپنی کے طور پر سامنے آئی ہے، جس نے تمام 23 بلاکس میں اپنی شرکت یقینی بنائی ہے۔ ماڑی انرجی 18 بلاکس میں بطور آپریٹر اور 5 بلاکس میں جوائنٹ وینچر پارٹنر کے طور پر کام کرے گی۔
دوسری جانب آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کو 8، 8 بلاکس دیے گئے ہیں۔ پرائم گلوبل انرجی کو ایک بلاک بطور آپریٹر ملا ہے، جبکہ یونائیٹڈ انرجی پاکستان اور اورینٹ پیٹرولیم بھی اس شراکت داری کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ میں دریافت ذخائر سے روزانہ 17.9 ملین مکعب فٹ گیس اور 153 بیرل تیل ملے گا
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق لائسنس کے ابتدائی 3 سالہ مرحلے کے دوران کمپنیوں کی طرف سے تقریباً 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اگر تلاشی سرگرمیاں اگلے مرحلے میں داخل ہوئیں تو یہ مجموعی سرمایہ کاری 1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں سمندری حدود میں ارضیاتی مطالعہ اور سیسمک ڈیٹا جمع کرنے کا کام کیا جائے گا تاکہ تیل و گیس کے ذخائر کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔ اگر نتائج حوصلہ افزا رہے تو دوسرے مرحلے میں گہرے سمندر میں کنووں کی کھدائی شروع کی جائے گی۔
معاہدہ کرنے والی کمپنیوں نے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں فلاحی کاموں اور مقامی لوگوں کی مہارت بڑھانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ کمرشل بنیادوں پر تیل یا گیس کی دریافت کی صورت میں مزید کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی۔














