امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ کی جانب سے جون 2025 میں شروع کیے گئے کاروباری منصوبے ’ٹرمپ موبائل‘ پر صارفین کا حساس ڈیٹا لیک کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ موبائل کب ریلیز ہوگا، خصوصیات کیا ہیں؟
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق انٹرنیٹ پر تحقیقات کے لیے مشہور یوٹیوبرز ’کافی زیلا‘ اور ’پینگوئن زیڈ زیرو‘ نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کے صارفین کے ای میل ایڈریس اور گھروں کے پتے آن لائن لیک ہو چکے ہیں۔ ان یوٹیوبرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سائبر سیکیورٹی محقق نے انہیں اس ڈیٹا لیک کے بارے میں الرٹ کیا تھا جس کی انہوں نے خود تصدیق کی ہے۔
یوٹیوبر کافی زیلا، جو کرپٹو اسکیموں کی تحقیقات کے لیے شہرت رکھتے ہیں، نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود بھی اس ڈیٹا لیک کا شکار ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے محض تجسس کے تحت ٹرمپ موبائل کا گولڈ کلر ’ٹی ون‘ فون آرڈر کیا تھا۔
انہوں نے صارفین کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک آپ اپنا ڈیٹا پبلک کرنے کے لیے تیار نہ ہوں، تب تک ٹرمپ موبائل کی ویب سائٹ سے کوئی آرڈر نہ کریں کیونکہ وہاں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ دونوں یوٹیوبرز کا کہنا ہے کہ محقق نے انہیں ثبوت کے طور پر ان کی اپنی ذاتی معلومات دکھائیں جس سے ڈیٹا لیک ہونے کی مکمل تصدیق ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق اس سیکیورٹی محقق نے ٹرمپ موبائل کی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ اس بڑی خامی کو دور کیا جا سکے، لیکن کمپنی کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا اور یہ ڈیٹا اب بھی آن لائن دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی کمپنی کا سونے کا موبائل فون لانچ کرنے کا اعلان، منصوبے پر تحفظات کیا ہیں؟
یوٹیوبرز نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ نہیں بتایا کہ ہیکرز نے اس ڈیٹا تک کیسے رسائی حاصل کی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ کام انتہائی آسان تھا۔ اس سنگین سیکیورٹی غفلت کے بعد جہاں صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، وہاں کمپنی کی اس معاملے پر مسلسل خاموشی نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔












