وزارتِ خارجہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر سوار انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی غیر قانونی حراست اور مبینہ بدسلوکی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق حکومتِ پاکستان نے اسرائیلی افواج کی جانب سے بین الاقوامی سمندری حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا کی غیر قانونی روک تھام اور اس پر موجود کارکنوں کی جبری حراست کو شدید ترین الفاظ میں مسترد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے اطالوی رکن نے اسلام قبول کرلیا
بیان میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں پاکستانی انسانی حقوق کے کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
Reports from Ashdod port say Sumud Flotilla activists were zip-tied, humiliated, and mistreated by Israeli officers after interception at sea.
Despite pressure and abuse, the activists’ determination to stand for Gaza remains unshaken. ✊💔 pic.twitter.com/pMwq5RAMdJ— Sikandar Shah Syed (@SikandarShah077) May 20, 2026
دفترِ خارجہ نے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام زیرِ حراست کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نہ صرف اس اقدام کی مذمت کرتا ہے بلکہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ زیرِ حراست افراد کی حفاظت، وقار اور بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: پاکستان سمیت 10 ممالک کی اسرائیل کے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی شدید مذمت
ترجمان کے مطابق وزارتِ خارجہ متعلقہ خطے میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی زیرِ حراست پاکستانی شہری کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دیتا ہے اور اس معاملے پر سفارتی سطح پر بھی رابطے جاری رکھے گا۔














