بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ حکومت سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی ملک واپسی کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کر رہی ہے تاکہ وہ ملک میں درج مقدمات کا سامنا کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ، امدادی فنڈز میں نمایاں کمی سے بحران شدت اختیار کر گیا
جمعرات کو سیکریٹریٹ میں امن و امان کی صورتحال پر پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ نے باضابطہ طور پر شیخ حسینہ کی واپسی کے لیے سفارتی چینلز اور موجودہ حوالگی (ایکسٹراڈیشن) معاہدوں کے تحت درخواست بھیج دی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انہیں قانونی طریقہ کار کے ذریعے واپس لایا جائے تاکہ وہ بنگلہ دیش میں دائر مقدمات کا سامنا کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ درخواست وزارت خارجہ کے ذریعے متعلقہ فریق تک پہنچائی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: تیستا ندی منصوبے کے لیے بنگلہ دیش کا چین سے رابطہ، پانی کا تنازع اب بھارت کے لیے بڑا سیکیورٹی چیلنج بن گیا
بھارت میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) سے متعلق سوالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سی اے اے اور این آر سی بھارت کے اندرونی قانونی معاملات ہیں اور بنگلہ دیش ان پر کوئی رائے نہیں دینا چاہتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) غیر قانونی نقل و حرکت اور سرحد پار ممکنہ داخلے کو روکنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے اعلیٰ سول افسران کے وفد کا وزارت خارجہ کا دورہ، اسحاق ڈار کا خیرمقدم
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت قانون کی حکمرانی قائم رکھنے اور انصاف کی فراہمی کو ادارہ جاتی اور قانونی طریقوں سے یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔













