امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور یہ بات پاکستان کے توسط سے چلائی جا رہی ہے اور امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کے ساتھ تصفیہ ہو تاکہ خطے میں تنازع ختم ہو جب کہ پاکستان نے علاقائی امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا معاہدے کے امکانات روشن: پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کردیں اور مثبت اشارے ملے ہیں، مارکو روبیو
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا، ہم مذاکرات کر رہے ہیں، دیکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی نہ کسی طرح یہ معاملہ طے کر لیں گے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا اور کسی بھی نتیجے میں اس کو ایسی صلاحیت حاصل نہیں ہو گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنی بحریہ کی ناکہ بندی کے ذریعے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ راستہ آزاد رہے اور ہم ٹول سسٹم نہیں چاہتے۔ انہوں نے مزید کہ یہ ایک بین الاقوامی پانی کی راہ ہے اور کوئی بھی جہاز ہماری اجازت کے بغیر ایران سے نہیں جائے گا۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد امن مذاکرات نے پاکستان کو عروج بخشا، اگلا مرحلہ جلد منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران کو اعلیٰ افزودہ یورینیم رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسے حاصل کر لیں گے تاہم ہمیں اس کی ضرورت نہیں اور شاید اسے حاصل کرنے کے بعد ہم اس کو تباہ کر دیں لیکن ہم انہیں یہ رکھنے نہیں دیں گے۔
امریکا ایران مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے کچھ اچھے اشارے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے کھلا ہے تاہم مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دیگر آپشنز موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا اسلام آباد ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے؟
روبیو نے کہا کہ صدر کی ترجیح ہے کہ ایک اچھی ڈیل ہو، یہ ہمیشہ سے ان کی ترجیح رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ مثبت اشارے ہیں لیکن میں حد سے زیادہ پرامید نہیں ہو سکتا۔
روبیو نے بتایا کہ پاکستانی اہلکار جمعرات کو تہران جا رہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جاری سفارتی کوششیں امریک اایران جنگ ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
.@SecRubio on Iran: "@POTUS's preference is to do a good deal… I'm not here to tell you that it's going to happen for sure, but I'm here to tell you that we're going to do everything we can to see if we can get one. If we can't get a good deal, @POTUS has been clear — he has… pic.twitter.com/dhah7hSlvV
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 21, 2026
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹول سسٹم نافذ کرنے کی کوشش کرے گا تو معاہدہ ناقابل عمل ہو جائے گا۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی
آبنائے ہرمز اب بھی خطے کے تنازع کا مرکزی نقطہ ہے۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کورز (پاسداران انقلاب) نے کہا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں 31 جہاز ان کی نیوی کے تعاون اور حفاظت کے ساتھ اس راستے سے گزرے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ 94 تجارتی جہاز ایرانی بندرگاہوں سے ہٹائے گئے اور 4 دیگر کو ناکارہ بنایا گیا جسے انہوں نے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی قرار دیا۔
دریں اثنا پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کو سہولت دینے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ 8 اپریل کو پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروائی تھی اور اس کے بعد مذاکرات کے ذریعے مستقل تصفیہ کی کوششیں تیز کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہے، وزیراعظم شہباز شریف
گزشتہ ماہ پاکستان نے واشنگٹن میں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی۔ اسلام آباد مذاکرات سے حتمی معاہدہ نہیں ہوا لیکن یہ مذاکرات ہمیشہ کے لیے تنازع ختم کرنے کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔













