ابراہام معاہدہ فلسطینی مسئلے اور مشرق وسطیٰ کے بڑے تنازعے کا حل کیوں نہیں بن سکتا؟

منگل 26 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے کیے جانے والا ابراہام معاہدہ بظاہر معاشی تعاون، سکیورٹی شراکت داری اور علاقائی ترقی کے ایک نئے باب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاہم ناقدین کے نزدیک یہ فلسطینی مسئلے کے بنیادی حل کے بجائے خطے میں نئی سیاسی سازش و صف بندی کا ذریعہ بن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا فلسطین کے حوالے سے مؤقف دوٹوک، ابراہام اکارڈز سے جوڑنے کا تاثر غلط

اس معاہدے کو بظاہر معاشی، سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر تعاون کے نام پر پیش کیا جارہا ہے لیکن درحقیقت اس کا بنیادی مقصد اسرائیل کو جغرافیائی، معاشی اور جیوپولیٹیکل طور پر مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے مضبوط بنانا ہے۔

ان معاہدوں کے تحت یعنی میٹھی باتوں میں لپٹا ہوا زہر فلسطین کے 2 ریاستی حل کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل کو فلسطین، لبنان اور دیگر علاقوں کی غیرقانونی طور پر قبضہ شدہ سرزمین ہضم کرنے کی کھلی گنجائش مل رہی ہے۔

مزید پڑھیے: مشرق وسطیٰ کے ممالک کا ’ابراہام معاہدے‘ میں شامل ہونا اہم ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کی مکمل حمایت اور دباؤ ابراہام معاہدوں کے پیچھے صرف اسرائیل کے فائدے کے لیے ہے جبکہ یہ جیوپولیٹیکل طور پر خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ایسا معاہدہ ہے جو مشرق وسطیٰ اور دیگر مسلم ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران امریکا معاہدے میں پیش رفت کے دوران اچانک ابراہام معاہدوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور انہیں لازمی شرط کے طور پر پیش کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اور دیگر مقامات پر موجود صہیونی مسیحی لابی اپنے پوشیدہ مذہبی اور سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں سرگرم ہے۔

مزید پڑھیں: ابراہام معاہدے سے متعلق حکومت پر ٹرمپ یا کسی اور کا کوئی دباؤ نہیں، بیرسٹر عقیل ملک

اس مرحلے پر ابراہام معاہدوں کو دوبارہ سامنے لانے اور انہیں ایران تنازعے سے جوڑنے کا ایک اور مقصد یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی مکمل طور پر ختم نہ ہو اور مشرق وسطیٰ میں وسیع امن قائم نہ ہو سکے کیونکہ جیسا کہ ٹرمپ نے خود کہا کہ کچھ ممالک کبھی بھی موجودہ شکل میں ان معاہدوں پر دستخط نہیں کریں گے کیونکہ یہ صرف صہیونیت اور اسرائیل کے مبینہ ’گریٹر اسرائیل‘ ایجنڈے کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران سے ممکنہ امن معاہدہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اہم کابینہ اجلاس طلب کرلیا

نیویارک: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آذربائیجان اور کمبوڈیا کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، عالمی امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور قانون کی بالادستی ناگزیر قرار

طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ

مشترکہ اعلامیہ: پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر، مستقبل کی نئی برادری کے قیام پر اتفاق

ویڈیو

یہ غلط فہمی ہے کہ یورپ میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کی حامی ہے، حافظ عبدالرحمان

عیدالاضحیٰ سیزن: مویشیوں کے چارے، سامان سجاوٹ کے عارضی اسٹالز، کم وقت میں بڑی کمائی کا ذریعہ

حج 2026 کے موقع پر میدان عرفات میں عازمین کے لیے شاندار انتظامات

کالم / تجزیہ

ہر راستہ بیجنگ کی جانب

کراچی میں ہونے والا فضائی حادثہ جس نے پاکستان کے ایوی ایشن نظام کو ہلا کر رکھ دیا

عیدالاضحیٰ: پہل اسلام آباد سے کی جائے؟