نامور اردو شاعر بشیر بدر بھوپال میں چل بسے

جمعرات 28 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جدید اردو غزل کے ممتاز شاعر، پدم شری ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر جمعرات 28 مئی 2026 کو بھوپال میں 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

اہل خانہ کے مطابق وہ طویل عرصے سے علیل اور ڈیمینشیا کا شکار تھے اور انہوں نے بھوپال میں واقع اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔

یہ بھی پڑھیں: علم و ادب کا چراغ بجھ گیا، پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا انتقال کرگئیں

15 فروری 1935 کو ایودھیا، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے بشیر بدر اردو زبان، خصوصاً غزل گوئی میں اپنی غیر معمولی مہارت کے باعث دنیا بھر میں پہچانے جاتے تھے۔ انہیں فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔

بشیر بدر نے اردو شاعری کو ایک نئی اور سادہ طرزِ اظہار عطا کی، ان کے اشعار نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ عام لوگوں میں بھی بے حد مقبول ہوئے، ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام بن گئے۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

 خاص طور پر 1972 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان شملہ معاہدے کے دوران ان کا یہ شعر بے حد مشہور ہوا تھا۔

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

مزید پڑھیں: معروف شاعر و محقق پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم دوران مشاعرہ انتقال کرگئے

معروف نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے بشیر بدر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری زبان اردو کچھ اور غریب ہوگئی ہے۔

‘بشیر بدر جیسا سریلا شاعر ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گیا، لیکن اس کی شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی۔’

بشیر بدر کی غزلوں کو میر تقی میر کی روایت کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے، ان کی شاعری میں محبت، جدائی، زندگی کے اسرار اور انسانی دکھوں کی جھلک

نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا مجموعۂ کلام ‘آس’ خصوصی شہرت رکھتا ہے، جبکہ کلیاتِ بشیر بدر پاکستان میں بھی شائع ہو چکی ہے۔

انہوں نے کم عمری ہی میں شاعری شروع کر دی تھی اور بعد ازاں اردو کے متعدد شعری مجموعے شائع کیے، جن میں اکائی، امیج، آمد، اور آہٹ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے ادبی تنقید پر بھی دو اہم کتابیں ‘آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ’ اور ‘بیسویں صدی میں غزل’ تحریر کیں۔

بشیر بدر کی زندگی مشکلات سے خالی نہ تھی، 1987 میں میرٹھ میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ان کا گھر نذرِ آتش ہوگیا، جس کے نتیجے میں ان کا بیشتر غیر مطبوعہ ادبی سرمایہ ضائع ہوگیا۔

مزید پڑھیں: معروف شاعر سلیم کوثر 15 برس بعد مداحوں کے درمیان، کلام پر ہر آنکھ اشکبار

بعد ازاں وہ بھوپال منتقل ہوگئے اور نئے عزم کے ساتھ ادبی سفر دوبارہ شروع کیا، ان تلخ تجربات نے ان کی شاعری میں درد اور گہرائی کو مزید نمایاں کیا۔

پدم شری کے علاوہ انہیں اتر پردیش اردو اکیڈمی کی جانب سے 4 مرتبہ جبکہ بہار اردو اکیڈمی کی جانب سے ایک مرتبہ اعزاز سے نوازا گیا، انہوں نے میر

اکیڈمی ایوارڈ سمیت متعدد ادبی اعزازات بھی اپنے نام کیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp