لندن میں 6 جون کو منعقد ہونے والے ایک سیمینار نے پاکستان کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس (ایل ایس ای) کے ساؤتھ ایشیا سینٹر اور پاکستان پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (پی پی ڈی این) کے اشتراک سے ہونے والے اس پروگرام کے پینل کی تشکیل، مقررین کے انتخاب اور سیمینار کے وقت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئینی توازنِ اختیارات پر ہونے والی اس نشست میں مختلف آرا کی نمائندگی کے بجائے ایک مخصوص قانونی نقطۂ نظر کو فوقیت دی گئی ہے، جس سے مباحثے کی غیرجانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔
The upcoming LSE South Asia Centre event in London on June 6 raises critical questions about timing and intent. Co-hosted with the Pakistan Policy and Development Network, the discussion on Pakistan's constitutional balance of power features a startlingly one-sided panel.… pic.twitter.com/3Dm2xfAbcr
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) May 31, 2026
6 جون کو لندن میں منعقد ہونے والے سیمینار ’پاکستان میں آئینی توازنِ اختیارات‘ کے موضوع پر مرکوز ہے، تاہم پروگرام کے تیسرے سیشن کے مقررین کے انتخاب نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس نشست میں صرف سابق جج سید منصور علی شاہ اور ان کے سابق لا کلرک بیرسٹر اسد رحیم خان کو مدعو کیا گیا ہے، جو ایک طویل پیشہ ورانہ تعلق رکھتے ہیں اور متعدد قانونی معاملات پر یکساں مؤقف کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے پینل کی تشکیل، جس میں متبادل آرا یا مختلف قانونی نقطہ ہائے نظر کی نمائندگی موجود نہ ہو، ایک متوازن علمی مباحثے کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ اور یکطرفہ بیانیے کے فروغ کے خدشات جنم لیتے ہیں۔
اس حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ پینل کی تشکیل کس نے کی، مقررین کے انتخاب کے لیے کیا معیار اختیار کیا گیا اور لندن اسکول آف اکنامکس نے اس نوعیت کے محدود اور یک رخی پینل کی منظوری کن بنیادوں پر دی۔ ناقدین کے مطابق ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے کی حیثیت سے ایسی نشستوں میں متنوع آرا کی نمائندگی کو یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے۔
پاکستان کا چیف جسٹس نہ بنائے جانے پر شاہ جی (جسٹس (ر) منصور علی شاہ )ابھی تک ناراض ہیں اور اپنی ناراضگی کے کھلم کھلا اظہار کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور کئی ایسے پروگرامز اور فورمز میں شریک ہوتے ہیں جہاں پاکستان کے خلاف باقاعدہ ایک مہم چلائی جاتی ہے پروپیگنڈا… pic.twitter.com/yDcAM4IcHv
— Siddeeq Sajid (@S_SajidOfficial) May 31, 2026
پاکستان پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (پی پی ڈی این) کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ تنظیم کی فنڈنگ، مالی ذرائع اور بیرونی معاونت کے حوالے سے زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے، اگرچہ ان الزامات یا دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس سیمینار کا انعقاد ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب پاکستان سفارتی، معاشی اور علاقائی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور بین الاقوامی سطح پر مختلف شعبوں میں مثبت پیش رفت کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسے موقع پر ملک کے آئینی اور سیاسی تنازعات کو بین الاقوامی فورمز پر نمایاں کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

بعض مبصرین نے سابق جج سید منصور علی شاہ کی سیمینار میں شرکت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کے قانونی اور آئینی معاملات پر اظہارِ رائے کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم قومی سطح پر ہونے والی مثبت پیش رفت، سفارتی کامیابیوں اور معاشی بہتری کے پہلوؤں کو بھی زیر بحث لانا چاہیے۔ ان حلقوں کے مطابق بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے بارے میں متوازن اور جامع تصویر پیش کرنا زیادہ مناسب طرزِ عمل ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علمی اور قانونی مباحث کسی بھی جمہوری معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں، تاہم ان کی ساکھ اسی وقت برقرار رہتی ہے جب مختلف نقطہ ہائے نظر کو مساوی نمائندگی دی جائے۔ ان کے مطابق لندن میں ہونے والے اس سیمینار کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پینل کی تشکیل، پروگرام کے مقاصد اور منتظمین کی ترجیحات کے بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔














