اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں بڑا قبضہ، تاریخی بیوفورٹ قلعہ پر اسرائیلی پرچم لہرا دیا گیا

اتوار 31 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے تاریخی بیوفورٹ قلعہ اور اس سے ملحقہ اسٹریٹجک پہاڑی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جسے گزشتہ 26 برسوں میں لبنان کے اندر اسرائیل کی سب سے گہری پیش قدمی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

مغربی اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام کے مطابق صلیبی دور میں تقریباً 900 برس قبل تعمیر کیے گئے اس تاریخی قلعے پر قبضہ کئی روز تک جاری شدید جھڑپوں کے بعد کیا گیا۔

یہ قلعہ جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب اسرائیلی سرحد سے تقریباً 14.5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اپنی بلند ترین جغرافیائی حیثیت کے باعث عسکری لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پر تصاویر جاری کیں جن میں اسرائیلی فوجی قلعے کے باہر موجود دکھائی دیے جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے تصدیق کی کہ فوج نے قلعے پر اسرائیلی پرچم لہرا دیا ہے۔

ہم نے خوف کی دیوار توڑ دی، نیتن یاہو

وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس پیشرفت کو اسرائیلی پالیسی میں ایک ڈرامائی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فوج کو لبنان میں کارروائی مزید گہری اور وسیع کرنے کی ہدایت دی ہے۔

مزید پڑھیے: فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

اپنے ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ہم پہلے سے زیادہ متحد، مضبوط اور پرعزم ہو کر بیوفورٹ واپس آئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے خوف کی دیوار توڑ دی ہے اور اب ہم پہل اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل لبنان، شام اور غزہ سمیت مختلف محاذوں پر کارروائیاں کر رہا ہے اور سرحد پار سیکیورٹی زون قائم کیے جا رہے ہیں۔

قلعے پر سنہ 1982 پر بھی قبضہ ہوا تھا

بیوفورٹ قلعہ اس سے قبل بھی سنہ 1982 کی لبنان جنگ میں اسرائیلی فوج کے قبضے میں آیا تھا جب اسرائیل نے فلسطینی آزادی تنظیم (پی ایل او) کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جنوبی لبنان پر قبضہ کر لیا تھا۔ اسرائیل نے یہ قلعہ سنہ 2000 تک اپنے زیر قبضہ رکھا تھا۔

عسکری ماہرین کے مطابق قلعے پر قبضہ اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کے وسیع علاقے پر نظر رکھنے کا اسٹریٹجک فائدہ فراہم کرے گا۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں فلوٹیلا کارکنوں سے بدسلوکی اور جنسی ہراسانی، فرانس کا تحقیقات کا اعلان

یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب 17 اپریل سے نافذ جنگ بندی عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکی ہے اور امریکا کی ثالثی میں آئندہ ہفتے واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان نئے مذاکرات شیڈول ہیں۔

لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اسرائیلی کارروائیوں کو اجتماعی سزا اور جھلسا دینے والی پالیسی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملے جنوبی لبنان کے قصبوں اور دیہات کو تباہ کر رہے ہیں اور شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کے قریب موجود ہر شخص خطرے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجو اسرائیلی فوج کے خلاف متعدد محاذوں پر مزاحمت کر رہے ہیں اور اسرائیلی فورسز ابھی تک کئی قصبوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتے کے روز لبنان سے شمالی اسرائیل کی جانب 25 سے زائد راکٹ اور ڈرون حملے کیے گئے جبکہ ایک اسرائیلی فوجی حزب اللہ کے دھماکا خیز ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 3 ہزار 371 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے، 31 افراد جاں بحق، زمینی کارروائی کا اسرائیلی دعویٰ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ نہ صرف جنگ کے عسکری توازن کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے کیونکہ تہران لبنان میں مکمل جنگ بندی کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا اہم حصہ قرار دے چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp