چین میں کوئلے کی کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جہاں صوبہ شانشی میں پیش آنے والے ہولناک حادثے کے محض چند دن بعد ایک اور کان بیٹھنے سے کم از کم 5 کان کن ہلاک ہوگئے ہیں۔
تازہ ترین واقعے میں بھی 5افراد ہلاک ہوئے ہیں، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب کان کے ایک حصے کی چھت اچانک گر گئی اور وہاں کام کرنے والے مزدور ملبے تلے دب گئے۔
یہ بھی پڑھیں: چین: کوئلہ کان میں خوفناک دھماکا، 90 مزدور ہلاک
ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں، تاہم ملبے سے 5 لاشیں ہی نکالی جا سکیں جبکہ انتظامیہ نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
یہ اندوہناک واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ابھی چند روز قبل ہی شانشی صوبے کی ایک کوئلے کی کان میں گیس کے خوفناک دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی 90 ہلاکتوں پر ملک بھر میں سوگ کا سماں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: دکی کوئلہ کان میں ایک ماہ سے پھنسے کان کن، زندہ یا مردہ؟
اس سے قبل ہونے والے حادثے کے وقت کان کے اندر سینکڑوں مزدور موجود تھے جن میں سے کئی کو بچا لیا گیا تھا، لیکن تباہی کے پیمانے نے چینی حکام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
مسلسل ہونے والے ان ہولناک حادثات کے بعد بیجنگ حکومت نے ملک بھر کی تمام فعال کانوں میں حفاظتی پروٹوکولز کی ازسرنو سخت تفتيش اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔














