بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز دیپین دیوان نے صحت کے مسائل کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی بینک بنگلہ دیش کے نئے چیئرمین کی تقرری پر احتجاج، پولیس کی کارروائی
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے اتوار کے روز اپنا استعفیٰ وزیراعظم طارق رحمان کو ارسال کیا۔
وزیراعظم کے ایڈیشنل پریس سیکریٹری عتیق الرحمان نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے صحافیوں کو استعفیٰ کی ایک نقل فراہم کی۔
اپنے استعفیٰ میں دیوان نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلسل جسمانی عوارض کے باعث ان کے لیے اپنی سرکاری ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھانا مشکل ہو گیا تھا۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ صحت کی خرابی کے باعث انہیں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مختلف مشکلات کا سامنا تھا اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومتی ترقیاتی منصوبے اور انتظامی امور بلا تعطل جاری رہیں اسی لیے انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
دیوان تقریباً ساڑھے 3 ماہ تک اس منصب پر فائز رہے۔ انہیں رواں سال فروری میں طارق رحمان کی قیادت میں قائم ہونے والی بی این پی حکومت کے قیام کے بعد چٹاگانگ ہل ٹریکٹس امور کا وزیر مقرر کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت
دیوان پیشے کے اعتبار سے سابق سینیئر جوائنٹ ڈسٹرکٹ جج رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سنہ 2005 میں عدالتی ملازمت سے استعفیٰ دیا اور بعد ازاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) میں شمولیت اختیار کی۔
سیاسی میدان میں وہ بی این پی کے رنگامتی ضلعی یونٹ کے صدر اور مرکزی سطح پر اسسٹنٹ مذہبی امور سیکریٹری سمیت کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
انہوں نے رواں سال اپنی پہلی پارلیمانی انتخابی مہم میں کامیابی حاصل کی تھی جہاں انہوں نے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس کے علاقے میں یونائیٹڈ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے حمایت یافتہ امیدوار کو شکست دی تھی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟
حکومت کی جانب سے تاحال اس اہم وزارت کے لیے کسی نئے وزیر کے تقرر کا اعلان نہیں کیا گیا۔ چٹاگانگ ہل ٹریکٹس کو بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی حصے کا ایک اہم اور حساس خطہ تصور کیا جاتا ہے اس لیے نئے وزیر کی تقرری پر سیاسی حلقوں کی گہری نظر ہے۔














