محکمہ موسمیات نے آئندہ 3 ماہ کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیشگوئی کرتے ہوئے شدید گرمی کی لہروں، پانی کی قلت اور زرعی شعبے کو درپیش ممکنہ چیلنجز سے خبردار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرالکاہل میں ایل نینو کی واپسی اور دیگر موسمی عوامل کے باعث ملک میں بارشوں کی تقسیم غیر متوازن رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ جون سے اگست 2026 تک ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول سے کم جبکہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی کی لہریں، پانی کی قلت اور زرعی شعبے کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بحرالکاہل میں ایل نینو کا مرحلہ دوبارہ فعال ہو چکا ہے اور آئندہ چند ماہ تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ بحرِ ہند ڈائی پول اس وقت غیر جانبدار حالت میں ہے۔ ان موسمی عوامل کے باعث پاکستان میں بارشوں کی جغرافیائی تقسیم غیر متوازن رہ سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات لاہور کے ڈائریکٹر علیم الحسن کے مطابق آئندہ 3 ماہ کے دوران گرمی کی شدت میں اضافے، پانی کی دستیابی میں کمی اور زرعی سرگرمیوں کو درپیش مشکلات میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک میں اوسطاً 22.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو معمول سے تقریباً 10 فیصد کم رہی، جبکہ ماہانہ اوسط درجہ حرارت 29.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جو طویل المدتی اوسط سے 0.8 ڈگری زیادہ تھا۔
صوبائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں مئی کے دوران 29.7 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 19 فیصد زیادہ تھی، جبکہ سندھ میں صرف 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے 91 فیصد کم ہے۔ بلوچستان میں بارشوں کی مقدار معمول سے 71 فیصد کم رہی، جبکہ گلگت بلتستان میں معمول سے 33 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
جون کے دوران موسم کی صورتحال
محکمہ موسمیات کی جون 2026 کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول کے قریب یا معمول سے قدرے کم رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ علاقوں میں بارشوں کی سب سے زیادہ کمی متوقع ہے۔ اس کے برعکس گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا میں معمول سے کچھ زیادہ بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب جون کے دوران ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ گرمی میں اضافے کا رجحان بالخصوص گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبر پختونخوا میں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔
مارچ تا مئی موسمی جائزہ
محکمہ موسمیات کی موسمیاتی رپورٹ کے مطابق مارچ سے مئی 2026 کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 148 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو معمول سے 26 فیصد زیادہ تھی، جبکہ اوسط درجہ حرارت طویل المدتی اوسط سے ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔
اس عرصے میں پنجاب میں معمول سے 31 فیصد زیادہ بارش ہوئی، جبکہ سندھ میں بارشوں کی مقدار معمول سے 106 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
جون تا اگست: بارشوں میں کمی، شمالی علاقوں میں نسبتاً بہتر صورتحال
محکمہ موسمیات کے مطابق جون سے اگست کے دوران موسمی پیٹرن میں تبدیلی متوقع ہے اور پنجاب، سندھ، زیریں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول سے کم رہنے کا امکان ہے۔
اس کے برعکس گلگت بلتستان، شمالی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں معمول کے مطابق یا معمول سے زیادہ بارش ہو سکتی ہے، جبکہ شمال مشرقی پنجاب میں بارشوں کی سب سے زیادہ کمی متوقع ہے۔
زراعت، سیلاب اور بیماریوں سے متعلق خدشات
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں میں کمی خریف فصلوں کی کاشت اور ابتدائی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ آبپاشی کی ضروریات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب شمالی علاقوں میں زیادہ بارشوں اور برف کے تیز رفتار پگھلاؤ کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلاف)، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طویل دورانیے کی گرمی، وقفے وقفے سے بارش اور فضا میں نمی کے بڑھتے ہوئے تناسب کے باعث ڈینگی سمیت حشرات کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ درجہ حرارت میں شدید تفاوت گرد آلود آندھیوں، تیز ہواؤں اور ژالہ باری کا سبب بن سکتا ہے، جس سے فصلوں، باغات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ آبپاشی اور فصلوں کی کٹائی سے متعلق فیصلے موسمیاتی ہدایات اور پیشگوئیوں کو مدنظر رکھ کر کریں، جبکہ عوام کو شدید گرمی، بارشوں اور پہاڑی علاقوں کے سفر کے دوران خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔














