پاکستان ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر پچز بنانے کی حکمتِ عملی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے ملک میں اپنے فائدے کے مطابق کنڈیشنز تیار کرنا انٹرنیشنل کرکٹ کا ایک عام اور مسلمہ اصول ہے۔
پاکستان نے راولپنڈی اور لاہور میں سلو اور اسپنرز کے لیے سازگار پچز تیار کر کے 3 میچوں کی ون ڈے سیریز 1-2 سے اپنے نام کی، جہاں قومی اسپنرز نے مہمان ٹیم کو قابو کرنے اور اہم مواقع پر میچ کا پتا پلٹنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے آسٹریلیا کو تیسرے ون ڈے میں 4وکٹوں سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل اور فیصلہ کن معرکے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں کی جانب سے پچز کے ضرورت سے زیادہ ہوم ٹیم کے حق میں ہونے کی تنقید کو یکسر مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی ہر ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر جیتنے کے لیے سازگار پچز ہی تیار کرتی ہے، اور جب ہم غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں تو ہمیں بھی وہاں کے مقامی کھلاڑیوں کے فائدے کے لیے بنائی گئی تیز اور باؤنسی پچز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شاہین آفریدی نے محمد رضوان کی کپتانی میں آسٹریلیا کے حالیہ دورے کی مثال دیتے ہوئے یاد دلایا کہ وہاں پاکستانی ٹیم نے گرین اور باؤنسی وکٹوں پر کھیلتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی، لہٰذا جب کوئی ٹیم ہمارے ہاں آئے تو ہم انہیں یہاں گرین وکٹیں پیش کر کے اپنے جیتنے کے امکانات کو کم نہیں کرسکتے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرادیا، عرفات منہاس مین آف دی میچ قرار
انہوں نے واضح کیا کہ پچز کی یہ تیاری صرف فوری نتائج کے لیے نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو مستقبل کے بڑے ایونٹس اور ورلڈ کپ کے لیے تیار کرنے کی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ ون ڈے سیریز کے آخری میچ میں پاکستان نے ٹاس ہارنے کے بعد آسٹریلیا کو 157 رنز پر ڈھیر کردیا، جس میں شاہین آفریدی نے 30 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں.
ابرار احمد نے 19 رنز کے عوض 2 اور شاداب خان نے 28 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے کپتان جوش انگلس 65 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ جواب میں پاکستان نے ایک موقع پر 112 رنز پر 6 وکٹیں گنوا دیں.
یہ بھی پڑھیں: پہلا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرادیا، عرفات منہاس مین آف دی میچ قرار
شاداب خان (29 ناٹ آؤٹ) اور عبدالصمد (18 ناٹ آؤٹ) نے 7ویں وکٹ کے لیے 49 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے ہدف 41.5 اوورز میں حاصل کر لیا اور آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تیسری ون ڈے سیریز جیتنے کا اعزاز برقرار رکھا۔














